1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

اب مستقبل کے دروازے کھل چکے ہیں:ہوگو شاویز

وینزویلا میں اتوار کو اقتدار کی مدت پر ہونے والے ریفرنڈم میں صدر ہوگو شاویز کی جیت نے ملکی سیاست کو ایک نیا رُخ دیا ہے۔ صدرکے لئے یہ کامیابی توقع سے کہیں زیادہ بڑی قراردی جارہی ہے۔

default

ریفرینڈم کے نتائج کے بعد عوام سے خطاب کرتے ہوئے

حزب اختلاف نے ناخوش ہوتے ہوئے بھی ریفرنڈم کے نتائج تسلیم کر لئے ہیں۔ وینزویلا میں ریفرنڈم کے نتائج کا اعلان ہوا تو عوام بڑی تعداد میں سڑکوں پر نکل آئے۔ وہ دارالحکومت Caracas میں ہر طرف سرخ پرچم لہرا کر، ہارن بجا کر اور نعرے لگاتے ہوئے صدر ہوگو شاویز کی جیت کا جشن منا رہے تھے۔

ہزاروں افراد صدارتی محل کے باہر بھی جمع تھے جہاں صدر شاویز نے بالکونی میں آکر عوام کی حمایت کے لئے شکریہ ادا کیا اور انہیں مستقبل کی اُمید دی:’’مستقبل کے دروازے پوری طرح کھلے ہیں۔‘‘

Venezuela Referendum Wahlreform

نتائج کے اعلان کے بعد ہوگوشاویز کے حمایتی سڑکوں پر نکل آئے

نیشنل الیکٹورل کونسل کے مطابق اس ریفرنڈم کے ذریعے تقریبا 55 فیصد ووٹروں نے اقتدار کی مدت میں اضافے کے حق میں فیصلہ دیا۔ یوں صدر شاویز پھر سے صدارتی انتخابات میں حصہ لیں سکیں گے: ’’ 2013 سے 2019 تک کی صدارتی مدت کے لئے انتخابات 2012 میں ہوں گے، خدا نے چاہا اور عوام نے ساتھ دیا تو آپ کا یہ سپاہی ایک مرتبہ پھر صدارتی عہدے کا امیدوار ہوگا۔‘‘

صدر شاویز پہلے ہی دو مرتبہ صدارتی انتخابات میں جیت چکے ہیں۔ وہ پہلی مرتبہ 1998 میں صدر بنے۔ وہ آئندہ انتخابات میں بھی جیت گئے تو انہیں ملک میں سوشلسٹ نظام رائج کرنے کے لئے مزید وقت مل سکے گا جس کے ذریعے حکومت ملکی معیشت پر زیادہ سے زیادہ کنٹرول حاصل کرنا چاہتی ہے۔

صدر شاویز ملک کے غریب عوام میں خاص طور پر بہت مقبول ہیں جس کی وجہ ان کی جانب سے شروع کئے گئے صحت و تعلیم کے منصوبے ہیں۔ دوسری جانب حزب اختلاف صدر شاویز پر جرائم، بدعنوانی اور مہنگائی میں اضافے کا الزام لگاتی ہے۔

Chavez-Anhänger feiern Ergebnis der Volksabstimmung

نتائج کے اعلان کے بعد صدر شاویز کے حق میں نعرے بازی کرنے والے کچھ افراد

حزب اختلاف نے ریفرنڈم کے نتائج کو بھی تسلیم کیا ہے، ساتھ ہی صدر شاویز کی جانب سے ریفرنڈم کے لئے وسیع پیمانے پر چلائی جانے والی مہم کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ حزب اختلاف کے ایک رکن کارلوس Vecchio کا کہنا ہے کہ صدر کی جیت کے لئے سرکاری وسائل کا انتہائی بے دردی سے استعمال ہوا۔ انتخابی مبصرین نے بھی ریفرنڈم کو شفاف قرار دیا ہے۔

اُدھر ناقدین کہتے ہیں کہ صدر شاویز کے پاس ا‌ختیارات بہت زیادہ ہیں اور ملکی عدلیہ، قانون سازوں اور الیکشن کونسل ان کے زیر اثر ہے۔

اتوار کے ریفرنڈم کے نتائج کا اطلاق وینزویلا کے صدر کے ساتھ ساتھ میئرز، مقامی کونسلروں، قانون سازوں اور گورنرز پر بھی ہوتا ہے۔

وینزویلا کی معیشت کا انحصار تیل کی برآمدات پر ہے۔ تاہم عالمی منڈی میں تیل کی قیتموں میں عدم استحکام کےباعث ملکی اقتصادیات بھی بری طرح متاثر ہے۔

وینزویلا میں ایک کروڑ 70 لاکھ افراد ووٹ دینے کے اہل ہیں۔ اتوار کے ریفرنڈم میں ایک کروڑ 10 لاکھ افراد نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔