1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

اب فوج کی حفاظت کون کرے؟

کراچی میں پی این ایس مہران پر حملے کے بعد ملک کے اندر اور باہر پاکستانی مسلح افواج کی، دفاعی تنصیبات اور ملکی جوہری اثاثوں کی حفاظت کے لیے صلاحیت پر متعدد سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

default

دہشتگردوں کی جانب سے 2009ء میں راولپنڈی میں واقع فوج کے صدر دفتر (جی ایچ کیو) سے لے کر آئی ایس آئی ، ایئرفورس اور اب بحریہ کی تنصیبات اور اہلکاروں پر حملوں نے عام آدمی کو سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ کیا خود دہشتگردی کا شکار فوج عوام کی حفاظت کر پائے گی۔؟ بعض حلقے یہ سوال بھی اٹھا رہے ہیں کہ 600 سو ارب روپے سے زائد کا سالانہ دفاعی بجٹ لینے والی مسلح افواج اگر اپنی حفاظت بھی نہیں کر سکتیں تو ٹیکس گزاروں کا یہ پیسہ کس کام پر خرچ کیا جا رہا ہے۔؟

دفاعی تجزیہ نگار بھی کراچی کے واقعے کو ملکی سلامتی اور دفاع کے لیے ایک بڑا دھچکا قرار دے رہے ہیں۔ ان تجزیہ نگاروں کے مطابق 2 مئی کو ایبٹ آباد میں القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد دہشتگردوں کی جانب سے اس طرح کی کارروائیاں متوقع تھیں لیکن پھر بھی انہیں روکنے کے لیے ضروری اقدامات نہیں کیے گئے۔ دفاعی تجزیہ نگار اکرام سہگل کا کہنا ہے کہ پی این ایس مہران کی ایئر فیلڈ پر حملہ یقیناً سیکورٹی کی ناکامی ہے۔

انہوں نے کہا، ’’جب بھی حفاظتی حصار ٹوٹ جائے تو وہ سیکورٹی کی ناکامی ہوتی ہے۔ اس واقعہ میں بہت سے اور پہلو بھی ہیں کیونکہ ایئر فیلڈ کے اپنے سکیورٹی پیرامیٹرز ہوتے ہیں، جس کا مطلب ہے کہ اس واقعے میں صحیح معنوں کے اندر سکیورٹی ناکام ہوئی ہے۔‘‘

انہوں نے کہا کہ جب تک بحریہ کی طرف سے آنکھیں اور کان بند کرنے کا سلسلہ بند نہیں ہو جاتا، بری فوج اور ایئرفورس کو ہنگامی حالت کے نفاذ کا اعلان کر دینا چاہیے کیونکہ اس وقت نیوی پر کوئی بھی حملہ کیا گیا تو اسے روکنے میں دشواری ہوگی۔ اندرون ملک کی نسبت بین الاقوامی سطح پر پاکستان کے جوہری اثاثوں کے بارے میں زیادہ تشویش پائی جاتی ہے۔

Pakistan Angriff auf Marinestützpunkt NO FLASH

دفاعی تجزیہ نگار اکرام سہگل کا کہنا ہے کہ پی این ایس مہران کی ایئر فیلڈ پر حملہ یقیناً سیکورٹی کی ناکامی ہے

پاکستانی حکام بارہا اس بات کی یقین دہانی کروا چکے ہیں کہ ملکی جوہری اثاثے محفوظ ہاتھوں میں ہیں لیکن اسامہ بن لادن کی ایبٹ آباد میں موجودگی کے بعد امریکہ اور مغرب کی طرف سے پاکستانی جوہری اثاثوں کے بارے میں ایک مرتبہ پھر سخت خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

تجزیہ نگار ایئر مارشل (ر) مسعود اختر کا کہنا ہے کہ امریکہ اور یورپ کو صرف اس بات ہی کی تشویش نہیں کہ پاکستان کے ایٹمی ہتھیار شدت پسندوں کے ہاتھ لگ جائیں گے بلکہ انہیں یہ ڈر بھی ہے کہ دہشت گرد ایٹمی مواد کو خام حالت میں اپنے مقاصد کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔

پاکستانی فوج کے سابق بریگیڈیئر سعد محمد خان کا کہنا ہے کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ دہشتگردی کے خاتمے کے لیے صرف فوج پر ہی تکیہ نہ کرے بلکہ دیگر اداروں کو بھی فعال کیا جائے۔ انہوں نے کہا، ’’نیشنل کاؤنٹر ٹیرارزم اتھارٹی کو فوری طور پر فعال کرنا چاہیےاور دوسرا قانون سازی بھی ضروری ہے۔ ایسے قوانین متعارف کروائے جائیں، جن کی مدد سے گرفتار دہشتگردوں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے اور وہ بری ہو کر دوبارہ اس طرح کے کاموں میں ملوث نہ ہوں۔‘‘

رپورٹ: شکور رحیم اسلام آباد

ادارت: امتیاز احمد

DW.COM