1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

اب سپین میں بھی نقاب پر پابندی کا مسئلہ

فرانس اور بیلجیئم کے بعد اب ایک اور یورپی ملک سپین میں بھی عوامی مقامات پر نقاب پہننے پر پابندی کا مسئلہ پیچیدہ ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔

default

سپین کے دوسرے بڑے شہر بارسلونا میں حکام نے لائبریریز اور بازاروں سمیت عوامی مقامات پر نقاب یا ایسے برقعے پہننے پر پابندی عائد کردی ہے، جس سے لوگوں کی شناخت مشکل ہو۔ اس پابندی کا اطلاق اسی موسمِ گرما کے بعد ہوگا۔

شہر کے میئر Jordi Hereu نے بعض سیاست دانوں کے اُن مطالبات کو مسترد کر دیا ہے، جن کے تحت وہ اِس طرح کی پابندی کا نفاذ تمام عوامی مقامات کے لئے چاہتے تھے۔ میئر کا کہنا تھا کہ ایسا کرنا قانونی طور پر اُن کے اختیار میں نہیں ہے۔

Jordi Hereu نے اس تاثر کو بھی غلط قرار دیا ہے کہ یہ پابندی کسی ایک مذہب کے ماننے والوں کے خلاف ہے۔ اُن کا دعویٰ ہے کہ اِس کا اطلاق ایسے اشخاص پر بھی ہوگا، جو ہیلمٹ یا کوئی بھی ایسی چیز کا استعمال کرتے ہیں جس سے ان کی شناخت مشکل بن جاتی ہو۔

Moschee in Granada

مسلم رہنماؤں نے اس پابندی کو سپین کی آئینی عدالت میں چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

کیٹالونیا کے شمال مشرقی علاقے کے دو چھوٹے قصبوں، Lerida اور El Vendrell میں پہلے ہی عوامی مقامات میں حجاب پہننے پر پابندی عائد ہے۔ کیٹالونیا کی گیارہ مسجدوں کے منتظمین اور مسلم رہنماؤں نے اس پابندی کو سپین کی آئینی عدالت میں چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

سپین کے بعض علاقوں پر آٹھویں صدی سے لے کر پندرہویں صدی عیسوی تک مسلمانوں کی حکومت رہی ہے۔ سن دوہزار نو کے ایک سروے کے مطابق اس ملک میں مسلمانوں کی آبادی چودہ لاکھ ہے۔ اسلامک کمیشن آف سپین کا کہنا ہے کہ اس ملک میں مسلمان کل 47 ملین نفوس پر مشتمل آبادی کا تین فیصد بنتے ہیں۔ سن 1990ء سے بڑی تعداد میں مسلم ممالک سے لوگ سپین کی طرف ہجرت کر رہے ہیں جبکہ کیٹالونیا کو پاکستانی نژاد مسلمانوں کا گڑھ تصور کیا جاتا ہے۔

پبلک مقامات پر اس پابندی سے ایک بار پھر حجاب اور نقاب پہننے پر ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے۔ سپین کے بعض دیگرعلاقوں میں بھی نقاب پر پابندی عائد کرنے پر غوروغوض کیا جارہا ہے۔

گزشتہ ماہ بیلجیئم کے ایوانِ زیریں میں بھی پارلیمانی اراکین نے ایک مسودہ قانون کی منظوری دے رکھی ہے، جس کے تحت عوامی مقامات پر نقاب پہننے پر پابندی عائد ہوگی۔ اس مسودہ قانون پر ابھی ملک کے سینیٹ میں رائے شماری ہونا باقی ہے۔ یورپی ملک فرانس کی کابینہ نے بھی گزشتہ ماہ ایسی ہی ایک پابندی کی منظوری دے دی۔

حال ہی میں حجاب کا یہ مسئلہ سپین میں اُس وقت ذرائع ابلاغ کی توجہ کا مرکز بنا، جب ایک مسلمان لڑکی نے دارالحکومت میڈرڈ کے ایک اسکول کو اِس لئے چھوڑ دیا کیونکہ اِس تعلیمی ادارے کی انتظامیہ نے اُسے سر ڈھانپنے والے دوپٹے کے استعمال سے منع کیا تھا۔

رپورٹ: عبدالستار/خبر رساں ادارے

ادارت: گوہر نذیر گیلانی