اب جین تھراپی کے ذریعے کینسر کا علاج ممکن | صحت | DW | 31.08.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

صحت

اب جین تھراپی کے ذریعے کینسر کا علاج ممکن

امریکی ریگولیٹرز نے ایک ایسے علاج کی منظوری دے دی ہے، جس میں جین تھراپی کرتے ہوئے مریض کا مدافعتی نظام طاقتور بنایا جائے گا اور کینسر کے خاتمے کی کوشش کی جائے گی۔ اس پیش رفت کو ایک اہم سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔

جین تھراپی ایک ایسا طریقہ علاج ہے، جس کی مدد سے خلیات میں ہی تبدیلی کر دی جاتی ہے۔ کیمریا نامی یہ طریقہء  علاج دوا ساز کمپنی نوارٹس کی جانب سے متعارف کروایا گیا ہے۔ کینسر کے خلاف مدافعتی نظام کو طاقتور بنانے والے اس نئے طریقہء علاج کو طبی زبان میں کار ٹی سیل تھراپی کہا جاتا ہے۔

نوارٹس کمپنی کے سربراہ جوزف جِمینز نے اس حوالے سے کہا، ’’تاریخ میں ایسا پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ کار ٹی سیل تھراپی کرنے کی اجازت دی گئی ہے، ابھی تک دنیا کے کسی ملک میں بھی یہ طریقہء علاج سامنے نہیں آیا۔‘‘

Bildergalerie Geschichte von HIV/AIDS (AP)

اس میں مریض کے ہی جسم سے خون کے سفید خلیے نکال کر ان میں تبدیلی لائی جاتی ہے اور  پھر تبدیل شدہ خلیات کو ہی مریض کے جسم میں واپس ڈال دیا جاتا ہے

اس نئے طریقہء علاج میں مکمل طور پر مریض کے ذاتی خلیات استعمال کیے جائیں گے۔ ٹی سیلز خون میں پائے جانے والے ایسے خلیات کو کہا جاتا ہے، جن کا تعلق خون میں پائے جانے والے سفید سیلز سے ہوتا ہے۔

پشاور: سرطان کے مریضوں کے لیے امید کی کرن

امریکا میں خوراک اور ادویات کے حوالے سے نگران ادارے ’ایف ڈی اے‘ نے تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ طریقہء علاج خون کے سرطان میں مبتلاء پچیس سال سے زائد عمر کے مریضوں کے لیے موثر ثابت ہوگا۔

ایف ڈی اے کے مطابق یہ ایک تاریخی پیش رفت ہے اور یہ طریقہ نا صرف خون کے کینسر بلکہ کئی دیگر مہلک اور خطرناک بیماریوں کے علاج میں بھی مددگار  ثابت ہو سکتا ہے۔

یہ طریقہء علاج روایتی طریقوں جیسے کہ کیموتھراپی سے مختلف ہے۔ اس میں مریض کے ہی جسم سے خون کے سفید خلیے نکال کر ان میں تبدیلی لائی جاتی ہے اور  پھر تبدیل شدہ خلیات کو ہی مریض کے جسم میں واپس ڈال دیا جاتا ہے، جہاں یہ مخصوص خلیات خود ہی افزائش پاتے ہیں۔ جینیاتی طریقے سے تیار کردہ نئے خلیات کینسر سے متاثرہ خلیات کو ایک نئی زندگی بخشتے ہیں۔

نوارٹس کمپنی کے سربراہ کے مطابق اس نئے طریقہ ء علاج کے ذریعے چار لاکھ سے چھ لاکھ ڈالر تک کا خرچ آ سکتا ہے۔

DW.COM