1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

اب تک پچاس ہزار سے زائد ترک اہلکار گرفتار یا برطرف

ترکی میں فوجی بغاوت کی حالیہ ناکام لیکن خونریز کوشش کے بعد سے اب تک پچاس ہزار کے قریب سرکاری اہلکاروں اور نجی ملازمین کو گرفتار یا برطرف کیا جا چکا ہے۔ ان وسیع تر گرفتاریوں پر عالمی سطح پرگہری تشویش بھی پائی جاتی ہے۔

Türkei Aufständischer Soldaten werden vor Gericht in Mugla gebracht

باغی ترک فوجیوں کو ایک عدالت میں پیشی کے لیے لایا جا رہا ہے

ترک دارالحکومت انقرہ سے بدھ بیس جولائی کو ملنے والی نیوز ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹوں کے مطابق گزشتہ جمعے کی رات ترک فوج کے ایک دھڑے کی طرف سے مسلح بغاوت کرتے ہوئے حکومت کا تختہ الٹنے کی جو کوشش کی گئی تھی، اس کے بعد سے پورے ملک میں مختلف شعبوں کے اب تک گرفتار یا برطرف کیے گئے سرکاری اور نجی ملازمین کی تعداد 50 ہزار ہو چکی ہے۔

اے ایف پی نے لکھا ہے کہ ان پچاس ہزار افراد میں سکیورٹی کے شعبے میں فرائض انجام دینے والے ہزاروں فوجی اور پولیس اہلکار بھی شامل ہیں جبکہ باقی کا تعلق ملکی عدلیہ اور تعلیم کے سرکاری اور نجی شعبوں سے ہے۔ اے ایف پی کے مطابق اہم بات یہ ہے کہ صدر رجب طیب ایردوآن کی پارٹی کی موجودہ حکومت کی طرف سے غیر جمہوری اور باغیانہ سوچ رکھنے کے الزام میں جن ہزارہا سرکاری اہلکاروں کو برطرف یا گرفتار کیا گیا ہے، ان کے خلاف یہ اقدامات اس حکومتی پروگرام کا حصہ ہیں، جس کے تحت انقرہ چاہتا ہے کہ ملکی مسلح افواج، سکیورٹی اداروں اور ریاستی نوکر شاہی میں ’تطہیر‘ کا عمل مکمل ہونا چاہیے۔

اس تناظر میں بدھ کے روز صدر ایردوآن نے ایک طرف ناکام بغاوت کے بعد اگر پہلی مرتبہ ملکی سکیورٹی اداروں کے سربراہان کے ایک اجلاس کی صدارت کی تو دوسری طرف عالمی سطح پر اس بارے میں پائی جانے والی تشویش اور بھی زیادہ ہو گئی کہ ترکی میں سکیورٹی اور ریاستی نوکر شاہی میں ’صفائی‘ کے اس عمل کے ساتھ دراصل قانون کی حکمرانی کے اصول کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے۔

Türkei - Nationaler Sicherheitsrat trifft sich unter Präsident Erdogan

صدر ایردوآن ناکام بغاوت کے بعد پہلی مرتبہ قومی سلامتی کونسل کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے

جرمن چانسلر انگیلا میرکل کے ایک ترجمان نے آج اس بارے میں کہا، ’’(ہزاروں گرفتاریوں کی صورت میں) ہم ہر روز ایسے نئے اقدامات دیکھ رہے ہیں، جن سے قانون کی بالادستی کے جمہوری ضابطے کی نفی ہوتی ہے اور جو اپنے حجم میں قطعی غیر متناسب ہیں۔‘‘

اے ایف پی نے لکھا ہے کہ ناکام فوجی بغاوت کی کوشش کے دوران ترکی میں 300 سے زائد افراد مارے گئے اور پورے ملک میں بے تحاشا مادی نقصان بھی ہوا۔ سب سے زیادہ نقصان دارالحکومت انقرہ میں ہوا، جہاں جنگی طیارے پروازیں کرتے رہے اور ہیلی کاپٹروں سے ملکی پارلیمان اور پولیس ہیڈکوارٹرز کی عمارات کو نشانہ بنایا گیا۔

انقرہ سے موصولہ رپورٹوں میں کہا گیا ہے کہ ترکی میں اب تک مسلح بغاوت اور ملک سے غداری کے الزام میں مسلح افواج اور عدلیہ کے جن ارکان کو برطرف کر کے حراست میں لیا جا چکا ہے، ان کی تعداد قریب ساڑھے نو ہزار بنتی ہے۔ ان میں 118 جرنیل اور ایڈمرل بھی شامل ہیں جبکہ باقی گرفتار شدگان یا تو فوج اور پولیس کے افسران اور ساپی ہیں یا پھر عدلیہ کے جج اور پراسیکیوٹرز۔

Türkei weinender Polizist bei Beerdigung des Polizei Offiziers Seyit Ahmet Cakir

ناکام بغاوت کے دوران باغیوں کے ہاتھوں مارے جانے والے اپنے ساتھیوں کی موت پر آنسو بہاتا ایک ترک پولیس اہلکار

اس کے علاوہ آج بدھ کے روز جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق ملکی وزارت تعلیم کے جن اہلکاروں کو معطل کیا گیا ہے، ان کی تعداد بھی مزید چھ ہزار کے اضافے کے ساتھ اب 22 ہزار ہو گئی ہے۔ یہی نہیں بلکہ21 ہزار کے قریب افراد کو نجی تعلیمی شعبے میں خدمات انجام دینے سے بھی روک دیا گیا ہے۔ ان ہزاروں اساتذہ کے لائسنس بھی منسوخ کر دیے گئے ہیں اور مستقبل میں وہ کسی ترک تعلیمی ادارے میں پڑھا بھی نہیں سکیں گے۔

اے ایف پی نے لکھا ہے کہ ترکی میں سرکاری اہلکاروں کے خلاف کس وسیع پیمانے پر اقدامات کیے جا رہے ہیں، اس کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ناکام فوجی بغاوت کے بعد سے اب تک ترک وزارت کھیل کے بھی قریب ڈھائی سو اہلکاروں کو ان کے عہدوں سے برطرف کیا جا چکا ہے۔

DW.COM