1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

اب تک باسٹھ ہزار پاکستانی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہلاک

ایک امریکی یونیورسٹی کی ایک رپورٹ کے مطابق سن 2001 سے اب تک پاکستان اور افغانستان میں ایک لاکھ تہتر ہزار افراد ہلاک جب کہ ایک لاکھ تریاسی ہزار افراد زخمی ہو چکے ہیں۔

براؤن یونیورسٹی کی ’جنگ کے اخراجات‘ نامی رپورٹ کے مطابق پاکستان اور افغانستان میں جنگوں کا ایک دوسرے سے تعلق صرف غیر محفوظ سرحد کے باعث نہیں ہے بلکہ اس لیے بھی ہے کہ ان دونوں ممالک میں امریکا کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لیے بے پناہ سرمایہ کاری کی گئی ہے اور وسائل مختص کیے گئے ہیں۔ اس رپورٹ کے مطابق اس جنگ میں امریکا 800 بلین ڈالر سے زائد رقم خرچ کر چکا ہے۔

اس اسٹڈی کے مطابق صرف گزشتہ برس مئی سے اب تک ہی پاکستان اور افغانستان میں مجموعی طور پر چوبیس ہزارافراد دہشت گردانہ حملوں اور دیگر فوجی کاروائیوں میں ہلاک ہو چکے ہیں۔

پاکستان میں ہلاکتیں

پاکستان میں حالیہ برسوں میں تشدد کے واقعات میں کمی آئی ہے۔ سن 2006 کے بعد سب سے کم خود کش حملے سن 2015 میں ریکارڈ کیے گئے تھے۔

اس رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ پاکستان میں تشدد کا تناسب کم ہوا ہے لیکن سن 2016 کے آغاز سے اب تک پاکستان میں پُر تشدد واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جو ظاہر کرتا ہے کہ 2016ء میں سن 2014 اور سن 2015 کی نسبت دہشت گردانہ کاروائیوں میں زیادہ ہلاکتیں ہو سکتی ہیں۔

رپورٹ میں پاکستان سے متعلق مضمون میں لکھا گیا ہے کہ پاکستان میں جنگی علاقوں سے بہت کم رپورٹنگ کی جاتی ہے۔ کئی ایسے صحافیوں کو نشانہ بنایا گیا ہے جو سکیورٹی افواج اور دہشتگردوں کے خلاف رپورٹنگ کرتے رہے ہیں۔ ’کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس‘ کے مطابق سن 2001 سے اب تک پاکستان میں 53 صحافیوں کو قتل کیا جا چکا ہے۔

امریکی ڈرون حملوں سے متعلق اس رپورٹ میں لکھا گیا ہے کہ پاکستان میں سن 2014 کی نسبت سن 2015 میں امریکی ڈرون حملوں میں کمی آئی۔ ان حملوں میں عام شہریوں کی ہلاکتوں کی متضاد رپورٹیں ہیں۔ پاکستانی انتظامیہ کے مطابق ڈرون حملوں میں 3500 افراد ہلاک ہوئے، جن میں 2600 عام شہری بھی شامل تھے۔

افغانستان میں ہلاکتیں

اس رپورٹ میں لکھا گیا ہے کہ امریکا افغانستان سے اپنی افواج کا جلد انخلاء چاہتا ہے لیکن افغانستان کے جنوب میں شدید جنگ جاری ہے۔ افغانستان کی حکومت ملک کا 70 فیصد علاقہ کنٹرول کرتی ہے، چھ فیصد علاقہ طالبان کے کنٹرول میں ہے اور 23 فیصد علاقے پر کسی کا بھی براہ راست کنٹرول نہیں ہے۔

افغانستان میں حکومت کے کنٹرول والے علاقوں میں بھی پُر تشدد واقعات دیکھنے میں آتے ہیں۔ سن 2001 سے اب تک افغانستان میں اکتیس ہزار عام شہری مارے جا چکے ہیں۔ اس رپورٹ کے مطابق گزشتہ دس برسوں میں افغانستان میں دہشت گردانہ کارروائیوں میں اضافہ ہوا ہے۔

DW.COM