1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

اب تو صرف بلاگنگ کی ہی بات ہو گی

آج سے چند برسوں قبل تک خیال کیا جاتا تھا کہ انٹرنیٹ بلاگز کو اتنی زیادہ مقبولیت حاصل نہیں ہو گی۔ تاہم 2015ء میں بلاگس نے عالمی سطح پر مختلف شعبوں میں تبدیلیوں کے حوالے سے اہم کردار ادا کیا ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق بلاگز کی وجہ سے اپنے اختتام کی جانب بڑھنے والےاس سال کے دوران سیاست، انسانی حقوق اور لائف اسٹائل کے شعبوں میں متعدد تبدیلیاں آئی ہیں۔ اس رپورٹ میں بتایا گیا کہ بلاگز دنیا کے کچھ علاقوں میں ان موضوعات پر روشنی ڈالنے کا واحد ذریعہ ہیں، جن پر بحث نہیں کی جاسکتی یا پھر ان پر تبصرہ کرنے پر پابندی ہے۔ اور اگر کسی مصنف نے ان موضوعات پر لکھنے کی جرات بھی کی تو اسے شدید نتائج یا تو بھگتنے پڑے ہیں یا پھر دھمکیاں ملیں۔

بلاگرز پر تشدد اور حملوں کے تناظر میں بنگلہ دیش عالمی خبروں میں رہا۔ اس ملک میں ایک سال کے دوران شدت پسندوں نے چار لادین بلاگرز کو قتل کیا جبکہ ایک ناشر کو بھی موت کے گھاٹ اتارا جا چکا ہے۔

ایک بنگلہ دیشی بلاگر عارف جیبتک کہتے ہیں’’ بلاگرز اس ملک میں شیطانی طاقتوں کے لیے ایک بہت بڑا مسئلہ ہیں۔ یہ لوگ کسی طرح کی ہچکچاہٹ کے بغیر سچ بولتے ہیں اور اسی وجہ سے وہ برے لوگوں کا نشانہ بنتے ہیں‘‘۔ جیبتک کو بھی ان کی تصانیف کی وجہ سے مسلم شدت پسندوں کی جانب سے دھمکیاں موصول ہو چکی ہیں۔

بنگلہ دیش میں آن لائن ایکٹوزم نیٹ ورک ’ بی او اے این‘ کے سربراہ عمران ایچ سرکار کہتے ہیں’’ بلاگنگ کے ذریعے آپ عوام کے سامنے وہ حساس موضوعات لا سکتے ہیں، جو یا تو ملکی ذرائع ابلاغ پر دکھائے نہیں جاتے یا پھر انہیں سینسر کر دیا جاتا ہے‘‘۔

رواں برسوں کے دوران بہت سے بلاگرز کو ان کے خیالات کے پرچار کی وجہ سے سزائیں بھی بھگتنا پڑیں یا پھر وہ ابھی تک صعوبتیں برداشت کر رہے ہیں۔ ان میں سعودی شہری رائف بدوی کی مثال سر فہرست ہے۔ بدوی کو توہین مذہب کے الزام میں دس سال قید اور ایک ہزار کوڑوں کی سزا دی سنائی گئی ہے۔ انہیں 2012ء میں گرفتار کیا گیا تھا۔

دوسری جانب مغربی ممالک میں بھی بلاگنگ ایک معروف ہوتا ہوا رجحان ہے۔ اس سلسلے میں لوگ سیاحت، ریستوران اور فیشن سے لے کر ہر موضوع پر اپنے بلاگز انٹرنیٹ پر پوسٹ کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ سیاسی موضوعات پر زیادہ تر بلاگز فیس بک اور ٹویٹر پر سامنے آتے ہیں۔ اے ایف پی کی اس رپورٹ کے مطابق جہاں تک سیاحت کی بات ہے تو شہری لوگوں کے بنائے ہوئے بلاگس پر کسی ٹریول میگزین سے زیادہ بھروسہ کرتے ہیں۔