1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

’اب اسلام محبت اور امن کا مذہب کیسے کہلا سکتا ہے‘ رشدی

بھارتی نژاد برطانوی مصنف سلمان رشدی نے اپنے ایک تازہ انٹرویو میں کہا ہے کہ دنیا میں اسلام کی جو صورتیں نمایاں ہو کر سامنے آ رہی ہیں، اُنہیں دیکھتے ہوئے کیسے اب یہ دعویٰ کیا جا سکتا ہے کہ اسلام امن اور محبت کا مذہب ہے۔

Eröffnungs-Pressekonferenz der 67. Frankfurter Biuchmesse Salman Rushdie

بھارتی نژاد برطانوی مصنف سلمان رشدی

سلمان رشدی کا یہ انٹرویو جرمن شہر ایسن سے شائع ہونے والے روزنامے ’ویسٹ ڈوئچے الگمائنے سائی ٹنگ‘ کی منگل چوبیس نومبر کی اشاعت میں شامل ہے۔ اس انٹرویو میں رشدی نے یورپی باشندوں پر زور دیا ہے کہ وہ دہشت گردانہ حملوں اور دھمکیوں سے خوفزدہ ہو کر اپنا آزادانہ طرزِ زندگی ترک نہ کریں:’’اپنی زندگی جیتے رہیں۔ زیر زمین ریلوے میں سفر کریں، ریستورانوں میں جا کر کھانا کھائیں، موسیقی کے لائیو پروگراموں میں جائیں۔‘‘

اڑسٹھ سالہ رشدی نے اپنے اس انٹرویو میں مزید کہا ہے:’’امن بہترین انتقام ہے۔ ہمیں اسے ترک نہیں کرنا چاہیے۔ ہم دنیا کے ایک پُر مسرت حصے میں رہ رہے ہیں۔‘‘

Cover Salman Rushdie Die satanischen Verse englisch

سلمان رشدی کی کتاب ’’شیطانی آیات‘ کا سرورپ، جس کی وجہ سے ایران کے روحانی پیشوا آیت اللہ خمینی نے 1989ء میں اُن کے خلاف سزائے موت کا فتویٰ دے دیا تھا

’شیطانی آیات‘ کے مصنف نے اس انٹرویو میں زور دے کر کہا ہے کہ مکمل سلامتی کا کوئی وجود نہیں ہوتا، صرف عدم سلامتی کے مختلف درجات ہوا کرتے ہیں۔‘‘

اسی کتاب کی وجہ سے ایران کے روحانی پیشوا آیت اللہ خمینی نے 1989ء میں اُن کے خلاف سزائے موت کا فتویٰ دے دیا تھا۔ رشدی کے سر کی قیمت لگا دی گئی تھی، جس پر اس برطانوی مصنف کو برسوں کے لیے زیر زمین جانا پڑا۔ اگرچہ رشدی ابھی بھی چھُپ چھُپ کر مختلف مقامات پر زندگی گزار رہے ہیں تاہم اب وقت کے ساتھ ساتھ یہ صورت ہے کہ اُن کے ساتھ کوئی محافظ نہیں ہوتا۔

جرمن خبر رساں ادارے ای پی ڈی کے مطابق اپنے اس انٹرویو میں سلمان رشدی نے دہشت گردی کو اسلام کی ’بگڑی ہوئی صورت‘ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اب کیسے یہ دعویٰ کیا جا سکتا ہے کہ اسلام محبت اور امن کا مذہب ہے جب کہ دنیا میں اسلام کے مظاہر اس کے بالکل برعکس نظر آ رہے ہیں۔‘‘

سلمان رشدی نے حال ہی میں پیرس میں کیے جانے والے دہشت گردانہ حملوں اور اس سال جنوری میں طنز و مزاح پر مبنی تحریروں والے فرانسیسی جریدے ’شارلی ایبڈو‘ پر حملے کے تناظر میں زور دے کر کہا کہ مغربی ممالک میں بسنے والے انسانوں کو آئی ایس (’اسلامک اسٹیٹ‘) کی دہشت گردانہ کارروائیوں کے حوالے سے کسی طور پر خود کو بھی قصور وار نہیں سمجھنا چاہیے:’’پیرس میں نشانہ بننے والے انسانوں نے کچھ بھی نہیں کیا تھا، شارلی ایبڈو نے بھی کچھ نہیں کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ طنزیہ تحریروں کی نوعیت ہی یہ ہوتی ہے کہ اُس میں دوسروں کی ہتک کی جاتی ہے:’’سوال یہ ہے کہ کوئی قابلِ احترام سیاسی کارٹون کیسا نظر آتا ہو گا؟ ایسی کوئی چیز نہیں ہوتی۔‘‘

DW.COM