1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

ابو غریب جیل کے رنگ لیڈر کی رہائی

عراق میں امریکی فوج کی تعیناتی کے دنوں میں ابو غریب کے مقام پر قائم کی جانے والی بدنام جیل کے سزا یافتہ رنگ لیڈر چارلس گرینر کو ساڑھے چھ سال بعد رہائی مل گئی ہے۔

default

ابو غریب جیل اب بغداد جیل ہے

بیالیس سالہ چارلس گرینر جونیئر (Charles Graner Jr) کو دس سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ ساڑھے چھ سال کی قید کے بعد اسے کینساس کے مقام فورٹ لیون ورتھ سے رہا کردیا گیا ہے۔ اسے پچیس دسمبر سن 2014 تک نگرانی میں رکھا جائے گا۔ فورٹ لیون ورتھ کی ترجمان ربیکا سٹیڈ نے گرینر کی رہائی کی تفصیلات کے دوران اس کے موجودہ قیام کا مقام بتانے سے گریز کیا۔

چارلیس گرینر جونیئر امریکی فوج کے ریزرو دستوں میں کارپورل رینک کا حامل تھا۔ اسے سن 2004 میں ابو غریب کی جیل میں قیدیوں پر غیر ضروری اور غیر معمولی تشدد کے الزامات کے تحت حراست میں لیا گیا تھا۔ استغاثہ نے فوجی عدالت میں الزامات کو ثابت کردیا تھا۔ کورٹ مارشل کے تحت چودہ جنوری سن 2005 کو اسے عہدے سے تنزلی کے علاوہ فوجی ملازمت سے برخاست کردینے کا فیصلہ سنایا گیا۔ اس کے ساتھ چھ اور فوجی بھی تھے۔ چار نچلے رینک کے ملازمین بھی شامل تھے۔ جیل میں قیدیوں پر تشدد کی تصاویر بھی عام ہوئیں تھیں۔

Bildergalerie Irak Abu Ghraib

ابو غریب جیل میں قیدیوں کے ساتھ انتہائی ناروا سلوک گرینر اور دیگر فوجیوں نے رکھا تھا

عراق میں تعیناتی کے دوران گرینر نے ایک اور امریکی خاتون فوجی لینڈی انگلینڈ کے ساتھ شادی بھی کی۔ اس کی خانگی زندگی بھی تنازعات سے بھری ہے۔ لینڈی انگلینڈ کو بھی ابو غریب میں گرینر کے ساتھ قیدیوں پر تشدد کے جرم کے تحت تین سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ گرینر کی رہائی کے بعد اب ابو غریب جیل میں قیدیوں کے ساتھ ناروا سلوک رکھنے کی پاداش میں گرفتار تمام افراد رہا ہو چکے ہیں۔ رہائی پانے والے سابق امریکی فوجیوں کی تعداد گیارہ ہے۔

ابو غریب جیل میں قیدیوں پر تشدد کرنے والے گیارہ فوجیوں کے کورٹ مارشل کی ابتدائی کارروائی بغداد میں شروع ہوئی۔ بعد میں اسے سکیورٹی وجوہات کی بنیاد پر جرمنی منتقل کردیا گیا تھا۔ گرینر کے کورٹ مارشل کا آغاز جرمن شہر مان ہائیم میں ہوا۔ ان ابتدائی پیشیوں کے بعد فوجی عدالت نے بقیہ کارروائی امریکی ریاست ٹیکساس کے فوجی مرکز فورٹ ہڈ میں مکمل کی۔

رپورٹ: عابد حسین

ادارت: ندیم گِل

DW.COM

ویب لنکس