1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

ابو ظہبی میں پاکستان کی جیت، ’یاسر شاہ کی اسپن سمجھ سے باہر‘

یاسر شاہ کی دس وکٹوں کی بدولت پاکستان نے ابوظہبی ٹیسٹ میں ویسٹ انڈیز کو پانچویں دن کے دوسرے سیشن میں ہی 133 رنز سے مات دے دی ہے۔ یوں پاکستان کو تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز میں دو صفر سے حتمی برتری حاصل ہو گئی ہے۔

ابو ظہبی میں کھیلے گئے اس ٹیسٹ میچ کے چوتھے دن ویسٹ انڈیز کی ٹیم اپنی دوسری اننگز میں تین سو بائیس رنز بنا کر آؤٹ ہو گئی۔ پاکستان نے مہمان ٹیم کو یہ میچ جیتنے کی خاطر چار سو چھپن رنز کا ہدف دیا تھا۔ پاکستان کی پہلی اننگز کے مجموعی ٹوٹل چار سو باون رنز کے جواب میں ویسٹ انڈیز کی ٹیم اپی پہلی اننگز میں دوسو چوبیس پر ہی ڈھیر ہو گئی تھی۔

پاکستان کا پہلا ڈے نائٹ ٹیسٹ، دبئی میں میدان سج گیا

عالمی ٹیسٹ کرکٹ رینکنگ میں پاکستان پہلے نمبر پر

بیس سال بعد پاکستان لارڈز کا شاہ کیسے بنا؟

پاکستان نے اپنی دوسری اننگز دو سو ستائیس رنز دو کھلاڑی آؤٹ پر چوتھے دن ڈکلیئر کر دی تھی لیکن 456 رنز کا ہدف ویسٹ انڈیز کے بلے بازوں کے لیے انتہائی مشکل ثابت ہوا۔ پاکستانی بلے باز یونس خان نے پہلی اننگز میں شاندار سنچری اسکور کی جبکہ گیند کے ساتھ یاسر شاہ نمایاں رہے۔ دس وکٹیں حاصل کرنے پر انہیں اس میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔ یاسر شاہ نے پہلی اننگز میں چار جبکہ دوسری اننگز میں چھ وکٹیں حاصل کیں۔

میچ کے بعد پاکستانی کپتان مصباح الحق نے کہا، ’’اس پچ پر بیس کھلاڑیوں کو آؤٹ کرنا آسان کام نہیں تھا۔ بولرز نے انتہائی محنت کی اور یہ ایک بڑی کامیابی ہے کہ انہوں نے بیس کھلاڑی کو آؤٹ کر دیا۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ میچ کی صورتحال کا درست اندازہ لگانا اور اپنے وسائل کو دیکھتے ہوئے گیم پلان پر عمل کرنا ضروری ہوتا ہے۔

یاسر شاہ نے اس کامیابی پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا، ’’میں ایک ہی جگہ پر بولنگ کرانا چاہتا تھا کیونکہ وکٹ انتہائی سست کھیل رہی تھی اور اسی لیے بہت سے خراب گیندیں بھی ہوئیں۔‘‘

ویسٹ انڈیز کی طرف سے دوسری اننگز میں نمایاں بلے باز جیرمینی بلیک ووڈ رہے، جنہوں نے 95 رنز کی انفرادی اننگز کھیلی۔ اس کے علاوہ کریگ براتھ ویٹ نے 67 رنز بنائے جبکہ ان کے علاوہ کوئی اور بلے باز پاکستانی بولنگ کا مقابلہ نہ کر سکا۔

Pakistan Misbah-ul-Haq Cricket Spieler (Imago/BPI)

مصباح الحق نے کہا ہے کہ ابو ظہبی کی سیدھی وکٹ پر بیس کھلاڑیوں کو آؤٹ کرنا مشکل کام تھا

ویسٹ انڈیز کے کپتان جیسن ہولڈر کے مطابق، ’’ہم نے اپنی کارکردگی میں بہتری کے آثار دکھائے ہیں لیکن بدقسمتی سے اس میچ کا آغاز ویسے نا کر سکے، جیسا کہ ہمارا منصوبہ تھا۔ پاکستان نے پہلے دن کے کھیل میں بہت زیادہ رنز بنا لیے تھے۔ پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے مابین اس تین ٹیسٹ میچ سیریز کے سلسلے میں آخری میچ تیس اکتوبر سے شارجہ میں شروع ہو گا۔

قبل ازیں پاکستان کی ٹیم ٹی ٹوئنٹی اور ون ڈے میچوں میں بھی ویسٹ انڈیز کو وائٹ واش کرنے میں کامیاب ہوئی ہے۔ اگر پاکستان تیسرا ٹیسٹ بھی جیت جاتا ہے تو یہ اپنی نوعیت کا ایک نیا ریکارڈ ثابت ہو گا۔

DW.COM