1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ابو سیاف کی جرمن یرغمالی کا سر قلم کرنے کی دھمکی

فلپائن میں دہشت پسند گروپ ابو سیاف نے تاوان کی عدم ادائیگی کی صورت میں اپنے ایک جرمن یرغمالی کا سر قلم کرنے کی دھمکی دی ہے۔ اس ستّر سالہ جرمن شہری کو گزشتہ سال نومبر میں اغوا کر لیا گیا تھا۔

آج منگل کے روز فلپائن میں سرگرم اِن مسلمان انتہا پسندوں کی جانب سے ایک ویڈیو پیغام جاری کیا گیا ہے۔ تین مہینے سے اس گروپ کے قبضے میں موجود اس ستّر سالہ مرد نے اپنے اس نئے ویڈیو پیغام میں برلن حکومت سے درخواست کی ہے کہ وہ اُس کی رہائی کے بدلے میں تیس ملین پیسو (تقریباً چھ لاکھ بارہ ہزار ڈالر یا تقریباً پانچ لاکھ ستّر ہزار یورو) کی ادائیگی کے لیے کوشش کرے۔

اِس ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ اس جرمن بزرگ شہری کی داڑھی بڑھی ہوئی ہے اور وہ زرد رنگ کی ایک شرٹ پہنے ایک جنگل میں بیٹھا ہوا ہے۔ ویڈیو میں اس یرغمالی کے پیچھے ایک شخص ہاتھ میں خنجر لیے کھڑا ہے جبکہ ساتھ ہی مزید تین افراد کو مشین گنوں کے ساتھ دیکھا جا سکتا ہے۔ ابو سیاف کی طرف سے دھمکی دی گئی ہے کہ چھبیس فروری سہ پہر تین بجے تک تاوان کی رقم ادا نہ کی گئی تو اس جرمن شہری کا سر تن سے جُدا کر دیا جائے گا اور اس منظر کی ویڈیو سوشل میڈیا پر جاری کر دی جائے گی۔ مزید یہ کہ یہ ’آخری الٹی میٹم‘ ہو گا۔

ویڈیو میں اس جرمن شہری نے اشک بار آنکھوں کے ساتھ کہا ہے:’’اگر سب کچھ غلط ہو گیا تو مَیں ابھی سے اپنے گھر والوں کو الوداع کہنا چاہوں گا۔ مجھے نہیں لگتا کہ مَیں یہاں سے زندہ واپس لوٹ سکوں گا کیونکہ کوئی بھی پیش رفت نہیں ہو رہی ہے۔‘‘

اس جرمن شہری کو گزشتہ سال پانچ نومبر کو جنوبی فلپائن میں اُس وقت اغوا کر لیا گیا تھا، جب وہ اپنی جرمنی ہی سے تعلق رکھنے والی اہلیہ کے ہمراہ اپنی سیلنگ بوٹ پر موجود تھا۔ اُس کی اُنسٹھ سالہ اہلیہ کو، جس نے آگے سے مزاحمت کرنے کی کوشش کی تھی، سیلنگ بوٹ پر حملے کے دوران ہی قتل کر دیا گیا تھا۔ یہ جرمن جوڑا 2008ء میں بھی صومالیہ کے پانیوں میں قزاقوں کے ہتھے چڑھ گیا تھا اور اسے سات ہفتے بعد رہائی ملی تھی۔

ابھی تک منیلا حکومت کی جانب سے اس ویڈیو کے حوالے سے کوئی رد عمل سامنے نہیں آیا ہے۔ فلپائن کی فوج کا کہنا ہے کہ ابھی اس ویڈیو کے اصل ہونے کی تصدیق کی جا رہی ہے۔ فوج کے ترجمان کرنل ایڈگر اریوالو نے البتہ کہا کہ حکومت دہشت گردوں کے ساتھ مذاکرات نہیں کرتی:’’پھر بھی ہم اُسے بچانے کی ہر ممکن کوشش کریں گے، خصوصاً اب جب کہ ہم ابو سیاف کے خلاف آپریشن جاری رکھے ہوئے ہیں۔‘‘ فوج کا موقف یہ ہے کہ تاوان کی رقوم سے اس گروپ کی طاقت اور بڑھ جاتی ہے اور یہ گروپ ان رقوم کو مقامی آبادی کی حمایت خریدنے کے لیے بھی استعمال کرتا ہے۔

دہشت گرد گروپ ابو سیاف بار بار اپنی اغوا کی وارداتوں کے سبب خبروں کا موضوع بنتا رہا ہے۔ یہ گروپ فلپائنی شہریوں کے ساتھ ساتھ غیر ملکی شہریوں کو بھی اپنی اس طرح کی وارداتوں کا ہدف بناتا رہا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ آج کل دو درجن سے زائد افراد اس گروپ کے قبضے میں ہیں۔