1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ابو بکر بشیر کے خلاف عدالتی فیصلہ، 15 سال قید

انڈونیشیا کی ایک عدالت نے آج جمعرات کو انتہا پسند مذہبی رہنما ابو بکر بشیر کو 15 سال قید کی سزا سنائی ہے۔ 72 سالہ شعلہ بیان مقرر پر دہشت گردی کو فروغ دینے اور دوسروں کو اس کی ترغیب دینے کے الزامات ثابت ہو گئے ہیں۔

default

ابو بکر بشیر

ججوں کے ایک پینل نے اپنا فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ ابوبکر بشیر کا دہشت گردی کے فروغ میں اہم کردار رہا ہے۔ ساتھ ہی وہ دوسروں کو اس کی ترغیت بھی دیتے رہے ہیں۔ عدالت کے باہرابوبکر بشیر کے تقریباً 500 حامی اللہ اکبر کے نعرے لگا رہے تھے۔ 72سالہ شعلہ بیان مقرر ابوبکر بشیر پریہ الزام بھی تھا کہ انہوں نے آچے کے ایک ایسے دہشت گرد گروپ کو 62 ہزار ڈالر کی رقم منتقل کی تھی، جو انڈونیشیا میں حملوں کی منصوبہ بندی کر رہا تھا۔ استغاثہ نے بشیر کے لیے عمر قید کی سزا کا مطالبہ کر رکھا تھا۔ ابوبکر بشیر اپنے اوپر لگائے جانے والے تمام تر الزامات مسترد کرتے ہیں۔

ابوبکر بشیر کا تعلق مقامی دہشت گرد گروہ جماع اسلامیہ سے جوڑا جاتا ہے۔ یہی گروہ 2002ء میں بالی میں ہوئے بم حملوں میں بھی ملوث قرار دیا جاتا ہے۔ اس حملے کے بعد بھی ابو بکر بشیر کو گرفتار کیا گیا تھا۔ تاہم 26 ماہ قید میں رہنے کے بعد عدالت نے 2006ء میں انہیں ان الزامات سے بری کر دیا تھا۔

Indonesien Islamistenführer Abu Bakar Bashi aus Haft entlassen

ابو بکر بشیر جنوب مشرقی ایشیائی ممالک میں دہشت گردوں کے روحانی پیشوا سمجھے جاتے ہیں

جنوب مشرقی ایشیائی ممالک میں دہشت گردوں کے روحانی پیشوا ابوبکر بشیر کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ملک کے لبرل حلقے ان کی تقاریر سے نالاں ہیں، اس لیے وہ انہیں دہشت گرد قرار دیتے ہیں۔

انڈونیشی دارالحکومت جکارتہ میں بدھ سے ہی سکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی تھی۔ پولیس کے بقول دہشت گردی کی دھمکیاں موصول ہوئی ہیں۔ جکارتہ سے موصولہ اطلاعات کے مطابق ممکنہ دہشت گردی کے پیش نظر دارالحکومت کے تمام اہم شاپنگ سینٹرز اور حساس مقامات پر سکیورٹی کی بھاری نفری تعینات ہے۔

بتایا گیا ہے کہ جنوبی جکارتہ میں، جہاں عدالت نے فیصلہ سنایا ہے، پولیس اور فوج کے تین ہزار اہلکاروں کے ساتھ ساتھ ماہر نشانہ باز بھی تعینات کیے گئے تھے۔ ساتھ ہی بکتر بند گاڑیاں شہر کا گشت جاری رکھے ہوئے تھیں۔عدالت کے ایک ترجمان نے بتایا ہے کہ اس مقدمے کی کارروائی کرنے والے ججوں کو بھی دھمکی آمیز پیغامات موصول ہوئے ہیں۔ پولیس حکام کے بقول حملوں کی ان دھمکیوں کو سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے اور تمام ممکنہ حفاظتی انتظامات کیے جا رہے ہیں۔

جس عدالت نے ابو بکر بشیر کے مقدمے کا فیصلہ سنایا ہے، وہاں صرف مخصوص شخصیات کو جانے کی اجازت دی گئی تھی۔ بتایا گیا ہے کہ اس مقدمے کی میڈیا کوریج کرنے والے صحافیوں کے لیے بھی خصوصی شناخت نامے جاری کیے گئے۔ یہ امر اہم ہے کہ انڈونیشیا میں گزشتہ کچھ عرصے سے دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ وہاں کے ’ہوم گرون‘ دہشت گرد ملک کی سیکولر اور جمہوری اقدار کے مخالف ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ ملک میں اسلامی نظام قائم کیا جائے۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: امجد علی

DW.COM

ویب لنکس