1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

ابوظہبی ون ڈے سیریزمیں نیوزی لینڈ فاتح

پاکستان اور نیوزی لینڈ کی ٹیموں کے درمیان خلیجی ریاست ابوظہبی میں کھیلی جانے والی ایک روزہ میچوں کی سیریز نیوزی لینڈ نے جیت لی ہے۔

default

یونس خان، پریشانی میں: فائل فوٹو

ابو ظہبی کے شیخ زید سٹیڈیم میں پیر کو کھیلے گئے تیسرے اور آخری میچ میں نیوزی لینڈ کے کپتان ویٹوری نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا۔ نیوزی لینڈ کی ٹیم کو پاکستانی باؤلرز نے دو سو گیارہ کے سکور پر آؤٹ کر دیا۔

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے مرکزی بلے بازوں کی جانب سے اس تیسرے ایک روزہ میچ میں مایوس کن کارکردگی ہار کا باعث بنی۔ اپنی جوابی اننگز میں پاکستانی ٹیم کے نو کھلاڑی محض 101 رنز پر آؤٹ ہو چکے تھے۔ تب محمد عامر اور سعید اجمل نے دسویں وکٹ میں شاندار کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے مجموعی طور پر پاکستانی ٹیم کے سکور کی لاج رکھ لی۔

نیوزی لینڈ کی جانب سے وکٹ کیپر اور افتتاحی بلے باز برینڈن میک کلم نے ایک بار پھر شاندار کھیل پیش کیا۔ دوسرے ایک روزہ میچ میں سینچری کے بعد تیسرے ایک روزہ میچ میں 76 رنز کی شاندار اننگ ایک طرح سے ان کی پچھلی اننگ ہی کا تسلسل تھی۔ میک کلم کے بعد کسی اور بلے باز نے نمایاں سکور نہیں کیا، سوائے ٹیلر کے جنہوں نے 44 رنز بنائے۔ پاکستانی باؤلروں نے نپی تلی باؤلنگ کا مظاہرہ کیا۔ خاص طور پر شاہد آفریدی، سعید اجمل اور شعیب ملک کی سپن باؤلنگ نے نیوزی لینڈ کے بلے بازوں کو کافی باندھ کر رکھا۔ نیوزی لینڈ کی ٹیم سینتالیسویں اوور میں دو سو گیارہ رنز بنا کر آؤٹ ہوگئی۔

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے لئے دو سو بارہ رنز کا ہدف بظاہر کوئی بڑا ٹارگٹ نہیں تھا لیکن پاکستانی بلے بازوں کی جانب سے انتہائی غیر ذمہ دارانہ اننگز نے ٹیم کو دباؤ کا شکار کردیا۔ پہلی وکٹ کی شراکت میں سنیتالیس رنز کی مناسب پارٹنر شپ قائم ہوئی۔ افتتاحی بلے بازوں سلمان بٹ اور خالد لطیف نے محتاط کھیل پیش کیا۔ پھر ستاون رنز کے دوران پاکستانی ٹیم کے مجموعی طور پر نو کھلاڑی آؤٹ ہو گئے۔

Cricketspieler Jacob Oram

تیسرے ایک روزہ میچ میں جیکب اورم نے تین کھلاڑی آؤٹ کئے

یونس خان، شاہد آفریدی، شعیب ملک، عمر اکمل، عبدالرزاق اور کامران اکمل بغیر کسی اچھے سکور کے آؤٹ ہوتے گئے۔ اس ایک روزہ سیریز میں کیتان یونس خان کی مایوس کن بلے بازی اور کپتانی میں بھی بعض فیصلے پاکستانی ٹیم کی شکست کا باعث بنے۔ ایک سو ایک کے سکور پر نو کھلاڑی فارغ ہو چکے تھے اور اس کے بعد محمد عامر اور سعید اجمل نے اپنے اپنے کیریئر کی شاندار اور بہترین اننگز کھیلی۔

ایک رورزہ میچوں کی تاریخ میں دسویں وکٹ کی شراکت میں دونوں باؤلروں نے دوسری بڑی شراکت قائم کرتے ہوئے 103 رنز بنائے۔ ان میں محمد عامر کے 73 ناٹ آؤٹ اور سعید اجمل کا 33 رنز کا انفرادی سکور شامل ہے۔ پاکستانی کی آخری وکٹ پچاسویں اوور میں گری جب میچ جیتنے کے لئے صرف سات رنز درکار تھے۔ سعید اجمل کی ایک اونچی ہٹ بہت شاندار انداز میں کیچ کر لی گئی۔

ایک روزہ میچوں میں دسویں وکٹ کے لئے سب سے بڑی شراکت ویسٹ انڈیز کے لیجنڈری کرکٹر رچرڈز اور مایہ ناز باؤلر ہولڈنگ نے انگلیند کی ٹیم کے خلاف مانچسٹر کے میدان پر سن 1984 میں قائم کی تھی۔ تب ویسٹ انڈیز کے ان دو کھلاڑیوں نے 106 رنز بنائے تھے۔

محمد عامر کو میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔ عامر نے نیوزی لینڈ کی اننگز میں دو وکٹیں بھی حاصل کی تھیں۔ عامر نے اپنی 73رنز کی اننگز میں تین بلند و بالا چھکے بھی لگائے۔ انہوں نے کل 88 گیندوں کا سامنا کیا۔

پاکستان اور نیوزی لینڈ کی کرکٹ ٹیمیں اب دو ٹونٹی ٹونٹی میچ کھیلیں گی۔

رپورٹ: عابد حسین

ادارت: مقبول ملک