’ابواب‘: جرمنی میں مہاجرین کے لیے پہلے عربی جریدے کا اجرا | مہاجرین کا بحران | DW | 02.01.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

’ابواب‘: جرمنی میں مہاجرین کے لیے پہلے عربی جریدے کا اجرا

جرمنی میں ’ابواب‘ نامی عربی زبان کے ایک ماہانہ جریدے کا اجرا ہو گیا ہے، جس کا مقصد عرب مہاجرین کو اہم اور ضروری معلومات فراہم کرنا ہے تاکہ وہ ایک نئے ملک میں کامیاب زندگی بسر کرنے کے قابل ہو سکیں۔

Flüchtlinge - Willkommensklasse

اسحاق بہتر انضمام کے لیے جرمن زبان سیکھنے کو انتہائی اہم قرار دیتے ہیں

’ابواب‘ یعنی ’دروازے‘، اس نام سے ہی ظاہر ہوتا ہے کہ اس میگزین کا مقصد بنیادی طور پر وہ اہم معلومات عربی زبان بولنے والے مہاجرین تک پہنچانا ہے، جو انہیں فی الحال صرف جرمن زبان میں میسر ہیں۔ ایک نئے ملک میں رہنا، لوگوں سے میل ملاپ، اقدار، قوانین اور اصول وضوابط، یہ سبھی اہم موضوعات اس میگزین میں عرب مہاجرین تک انہی کی زبان میں پہنچانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

DW.COM

اس میگزین کے مدیر اعلیٰ شامی صحافی رامی الاسحاق ہیں۔ الاسحاق نے ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس میگزین کا نام ’ابواب‘ اس لیے رکھا گیا ہے کیونکہ یورپ بالخصوص جرمنی نے مہاجرین پر اپنے دروازہ کھول کر ان بے گھر افراد کو جینے کی ایک نئی امید فراہم کی ہے۔

الاسحاق نے بتایا کہ جب وہ کولون شہر پہنچے تو ایک جرمن گھرانے نے انہیں ابتدائی طور پر رہائش فراہم کی۔ الاسحاق نے بتایا کہ جب وہ اپنے مہمانوں کو خدا حافظ کہہ کر جانے لگے تو اس گھرانے نے کہا، ’’ہم نے فراخدالی کے ساتھ آپ کے لیے دروازے کھولے ہیں۔ لیکن آپ خود ہی اپنی کامیابی کی ضمانت ہیں۔‘‘

الاسحاق کہتے ہیں کہ یہ کلمات ان کے ذہن میں گھر کر گئے تھے اور جب انہوں نے اس میگزین پر کام شروع کیا تو انہوں نے سوچا کہ اس مجلے کا بہترین نام ’ابواب‘ ہی ہو سکتا ہے۔ الاسحاق اور ان کی ٹیم اس میگزین کا پہلا شمارہ چھاپ چکے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اس میگزین میں شامل مواد ایسے افراد کی رہنمائی کرتا ہے، جو ابھی اس ملک میں نئے ہیں اور جنہیں معاشرتی اور قانونی لحاظ سے بہت سی اہم باتوں کا علم نہیں ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اس میگزین کو پڑھ کر قارئین بہت سی معلومات حاصل کر سکتے ہیں۔

کامیابی کا پہلا دروازہ ’زبان‘

’ابواب‘ کا پہلا شمارہ دراصل عربی زبان کا ایک ایسا میگزین ہے، جس میں اہم ہدایات شائع کی گئی ہیں۔ الاسحاق کے بقول جرمنی پہنچنے والے بہت سے عرب مہاجرین ابھی تک کامیابی کا ’پہلا دروازہ‘ نہیں کھول سکے ہیں، اس لیے یہ میگزین ان کی رہنمائی کرے گا۔ ’پہلے دروازے‘ سے ان کی مراد جرمن زبان سیکھنا ہے۔

اس اولین شمارے کے اداریے میں الاسحاق لکھتے ہیں، ’’مہاجرین ایک ایسے ملک میں آ کر آباد ہوئے ہیں، جس کے کلچر، معاشرت، سیاست اور زبان سے وہ بالکل ناواقف ہیں۔ جرمن زبان نہ سمجھ سکنے کی وجہ سے وہ خود کو لاچار محسوس کر رہے ہیں۔‘‘ انہوں نے مزید لکھا کہ یہ مہاجرین جلد ہی جرمن زبان سیکھ لیں گے لیکن جب تک وہ اس عمل میں مصروف ہیں، تب تک ’ابواب‘ ان کی رہنمائی کرتا رہے گا۔

اپنے اداریے میں الاسحاق نے زور دیا ہے کہ مہاجرین کو جرمن زبان سیکھنے میں دیر نہیں کرنا چاہیے۔ وہ اصرار کرتے ہیں کہ ان مہاجرین کو فوری طور پر خود ہی کوئی کتاب خرید کر اسے پڑھنے کی کوشش شروع کر دینا چاہیے۔ ان کا مشورہ ہے، ’’جرمن زبان کے کورس کا انتظار نہیں کرنا چاہیے۔ ایک آسان سی کتاب خرید کر اسے پڑھنا چاہیے اور کسی پارک میں بیٹھے کسی بزرگ سے گفتگو شروع کر دینا چاہیے۔‘‘

’کھلے پن کا مظاہرہ‘

اس نئے جریدے کے پہلے شمارے کے ایک آرٹیکل میں جرمن معاشرے میں جلد انضمام کے دس رہنما اصول بھی بیان کیے گئے ہیں۔ ان میں پہلا اصول جرمن زبان کا سیکھنا ہی ہے کیونکہ الاسحاق کے مطابق زبان ہی سے ایک دوسرے کے قریب آیا جا سکتا ہے اور تعلقات بنتے ہیں۔

Ramy Al-Asheq Overlay

ابواب نامی اس میگزین کے مدیر اعلیٰ شامی صحافی رامی الاسحاق ہیں

جرمن معاشرے میں انضمام کے لیے لاسحاق دوسرا مشورہ دیتے ہوئے کہتے ہیں، ’’یہ ملک جیسا ہے، ویسا ہی بننے کی کوشش کی جائے اور تنقید کا نشانہ نہ بنایا جائے۔‘‘ وہ زور دیتے ہیں کہ جرمنی میں روزمرہ زندگی کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہوئے اس میں ڈھل جانا چاہیے۔ الاسحاق کے دیگر مشوروں میں ’دوستانہ رویہ‘، جرمن باشندوں کے ساتھ روابط، سماجی اقدار کو اختیار کرنا اور درست معلومات حاصل کرنا بھی شامل ہیں۔

اس میگزین کے پہلے شمارے کے ایک دوسرے آرٹیکل میں نسل پرستی پر بھی بات کی گئی ہے۔ اس مضمون میں شامیوں کی نسل پرستی کے بجائے صرف جرمنی میں پائی جانے والی نسل پرستی پر بات کی گئی ہے۔

الاسحاق کی کوشش ہے کہ وہ جرمنی آنے والے مہاجرین کو یہاں کے سیاسی کلچر کے بارے میں بھی معلومات فراہم کریں۔ اس آرٹیکل میں جرمن ماضی کے حوالوں سے واضح کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ نازی دورحکومت کے بعد جدید جرمنی کس طرح وجود میں آیا۔