1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ابخازیہ میں روسی میزائلوں کی تنصیب

روس نے ابخازیہ میں طیارہ شکن میزائل نصب کر دیے ہیں، جس پر جارجیا نے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ماسکو علیحدگی اختیار کرنے والے علاقوں ابخازیہ اور جنوبی اوسیتیا پر اپنا قبضہ مزید مضبوط کرنا چاہتا ہے۔

default

روس نے بدھ کو اعلان کیا ہے کہ اس نے جارجیا سے علیحدگی اختیار کرنے والے علاقے ابخازیہ میں فضائی حدود کو کنٹرول اور نگرانی کرنے والے انتہائی جدید میزائل نصب کر دیے ہیں۔ روس کی جانب سے نصب کئے جانے والے میزائل S-300 ہیں۔

Medwedew Dagestan

روسی صدر دیمتری میدویدیف نے گزشتہ دنوں ابخازیہ کا غیراعلانیہ دورہ کیا

ان میزائلوں کا عام نام ’’فیورٹ‘‘ ہے اور یہ طویل المدتی ہدف تک راستے میں آنے والے ہر قسم کے میزائل اور نچلی پرواز کرنے والے جنگی طیاروں کا نشانہ بھی کامیابی سے لے سکتے ہیں۔ جدید روسی میزائل S-300 اپنے ہدف کے تعاقب میں جارجیا کے خطے سے پار بھی جا سکتا ہے۔ مبصرین کا خیال ہے کہ روس کی دو سال قبل جارجیا سے ہونے والی جنگ کے بعد میزائلوں کی تنصیب طبلیسی حکومت اور مغرب کے لئے ایک سخت پیغام ہونے کے ساتھ ساتھ متنازعہ علاقے میں موجود روسی فوج کی موجودگی کو مزید تقوییت دے گی۔

روس کی فضائیہ کے سربراہ جنرل Alexander Zelin کا کہنا ہے کہ جارجیا سے علیحدگی اختیار کرنے والے دوسرے علاقے جنوبی اوسیتیا میں بھی ایک اور قسم کے جدید میزائل نصب کئے جا چکے ہیں۔ جنرل الیگزینڈر زیلن کے ریمارکس روس کی خبر رساں ایجنسیوں کی جانب سے جاری کئے گئے ہیں۔ جنرل زیلن کا مزید کہنا ہے کہ ابخازیہ اور جنوبی اوسیتیا میں میزائلوں کی تنصیب کا فیصلہ ان دونوں علاقوں کی علاقائی سلامتی کے تناظر میں کیا گیا ہے اور کسی قسم کی خلاف ورزی کو بھی روکنا آسان ہو گا۔ جنرل زیلن کا مزید کہنا تھا کہ کسی بھی خلاف ورزی کی صورت میں فضا میں کارروائی کے ساتھ ساتھ زمین پر غیر قانونی طور پر داخل ہونے والی آٹو وہیکل کو بھی تباہ کردینا آسان ہو گا۔ انہوں نے ان میزائلوں کی تنصیب سے ابخازیہ اور جنوبی اوسیتیا میں روسی فوجی مراکز کی سکیورٹی کو محفوظ کرنے کا بھی عندیہ دیا ہے۔

جارجیا نے روسی اعلان کے بعد فوری طرح پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئےکہا کہ یہ عمل

USA China Treffen in Peking

امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن

مقبوضہ علاقوں پر اپنے تشخص اور کردار کو مزید مضبوط کرنے کوظاہر کرتا ہے۔جارجیا کی نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری Eka Tkeshelashvili کا مزید کہنا ہے کہ ان علاقوں میں دفاعی میزائلوں کی تنصیب فوجی تسلط کو مزید استحکام اور توانا کرنے کی روسی خواہش کی مظہر ہے اور وہ اپنی فوج کی واپسی کا نظام الاوقات مرتب کرنے کا بھی ارادہ نہیں رکھتا۔

روسی افواج نے دو سال قبل، اگست سن 2008 میں جارجیا کی جنوبی اوسیتیا میں فوج کشی کو سختی سےکچل دیا تھا۔ اس کے بعد روس کے امریکہ اور مغربی یورپی ملکوں کے ساتھ تعلقات میں خاصی سردمہری پیدا ہوگئی تھی۔ جارجیا امریکی اتحادی تصور کیا جاتا ہے۔ گزشتہ ماہ امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے طبلیسی کے دورے پر ابخازیہ اور جنوبی اوسیتیا میں فوجی اڈوں کے پلان پر تحفظات کا اظہار کیا تھا۔ تاہم ابخازیہ میں روسی میزائلوں کی تنصیب کے بارے میں واشنگٹن حکومت کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے مزید معلومات کا انتظار کیا جا رہا ہے۔

رپورٹ: عابد حسین

ادارت: ندیم گِل

DW.COM

ویب لنکس