1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ابخازیہ میں ایک اور روس نواز صدر کے انتخاب کا امکان

جارجیا سے علیحدہ ہونے والی باغی ریاست ابخازیہ میں آج جمعہ کو صدارتی انتخابات ہو رہے ہیں، جہاں عوام ملک کے تیسرے صدر کو چنیں گے۔ یہ قبل از وقت انتخابات صدر سیرگئی باگاپش کے رواں برس انتقال کر جانے کی وجہ سے ہو رہے ہیں۔

default

ابخازیہ میں صدارتی انتخابات ہو رہے ہیں

آج مقررہ وقت پر پولنگ کا آغاز ہوا اور مختلف مقامات پر ووٹروں کی قطاریں دیکھی گئیں۔ الیکشن حکام کا کہنا ہے کہ 145,000  افراد ووٹ دینے کے اہل ہیں۔

بین الاقوامی برادری ابخازیہ کی آزادی کو تسلیم نہیں کرتی اور ابھی تک روس کے علاوہ صرف وینزویلا، نکاراگوا اور بحر الکاہل کے جزیرے نوآرو نے اسے ایک خود مختار ریاست کے طور پر تسلیم کیا ہے۔

Abchasien Russische Soldaten in Zugdidi

جارجیا کی ریاستوں ابخازیہ اور اوسیشیا کے اعلان آزادی کے بعد روس اور جارجیا کے درمیان جنگ ہوئی تھی

سن 2008 میں ابخازیہ اور جنوبی اوسیتیا نے روس کی حمایت سے علم بغاوت بلند کرتے ہوئے جارجیا سے اپنی علیحدگی کا اعلان کر دیا تھا، جس کے بعد جارجیا اور روس کے درمیان اس مسئلے پر پانچ روزہ جنگ بھی ہوئی تھی۔ اس کے بعد سے روس نے بحیرہء اسود اور قفقاذ کے پہاڑوں کے درمیان واقع اس باغی علاقے میں ہزاروں کی تعداد میں اپنے فوجی تعینات کر رکھے ہیں، جنہیں جارجیا اپنے ان علاقوں پر ماسکو کا قبضہ تصور کرتا ہے۔

صدارتی انتخاب میں تین امیدوار مدمقابل ہیں، جن میں وزیر اعظم سیرگئی شامبا، نائب صدر الیگزین‍ڈر انقواب اور حزب اختلاف کے رہنما راؤل خاجمبا شامل ہیں۔ اپنے باہمی اختلافات کے باوجود ان تینوں امیدواروں کے کریملن سے دوستانہ تعلقات ہیں اور وہ جارجیا کے ساتھ دوبارہ اتحاد کے تصور کے سخت مخالف ہیں۔

باگاپش کے پیشرو اور تبلیسی کے ساتھ خانہ جنگی اور پھر آزادی کا اعلان کرنے والے ابخازیہ کے پہلے رہنما ولادسلاو آردزنبا سن 1994 سے سن 2005 تک اس خطے پر حکمران رہے تھے۔ وہ گزشتہ برس ماسکو میں انتقال کر گئے تھے۔

Mosaik von Lenin neben Olympia-Plakat in Sotschi, Russland

2014 کے سرمائی اولمپکس بحیرہء اسود کے شہر سوچی میں ہوں گے جو ابخازیہ کی سرحد سے انتہائی قریب ہے

ابخازیہ میں گزشتہ انتخابات دسمبر 2009 میں ہوئے تھے، جن میں باگاپش کو دوبارہ منتخب کر لیا گیا تھا۔ کارنیگی ماسکو سینٹر کے ایک تجزیہ کار آندرے ریابوف نے کہا، ’’گزشتہ انتخاب کے برعکس، ہم آج ملک کے اندرونی ارتقاء کی بات کر رہے ہیں۔‘‘ انہوں نے کہا کہ اس انتخاب کا نتیجہ چاہے کچھ بھی نکلے، روس کو کسی بھی صورت نقصان نہیں ہو گا۔

1990ءکی دہائی میں سوویت یونین کے حصے بخرے ہونے کے بعد ابخاز علیحدگی پسندوں کی جارجیا کے ساتھ خانہ جنگی شروع ہوگئی، جس میں کئی ہزار افراد ہلاک ہو گئے تھے اور ڈھائی لاکھ کے قریب افراد مہاجر بن گئے تھے۔ ان میں زیادہ تعداد جارجیائی نژاد باشندوں کی تھی۔

انتخابات کے نتیجے میں ہونے والی سیاسی تبدیلیوں کے روس کے مغرب نواز جارجیا کے ساتھ تعلقات اور 2014 کے سرمائی اولمپکس پر دور رس اثرات مرتب ہوں گے۔ اولمپک مقابلے بحیرہء اسود کے روسی بندرگاہی شہر سوچی میں ہوں گے، جو ابخازیہ کے ساتھ سرحد سے انتہائی قریب ہے۔

رپورٹ: حماد کیانی

ادارت: مقبول ملک

DW.COM