1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

ابتداء میں کائنات مائع تھی، نئے تجرباتی نتائج

یہ نتائج یورپی سینٹر فار نیوکلیئر ریسرچ (CERN) میں واقع دنیا کے سب سے بڑے پارٹیکل کولائیڈر میں سیسے کے ایٹمز کے نیوکلیئس کو آپس میں ٹکرانے کے بعد اخذ کیے گئے۔

default

سرن میں واقع لارج ہاڈران کولائیڈر میں تجربات میں مصروف ایلس ڈیٹیکٹر ٹیم میں شامل ماہرینِ طبیعات نے کہا ہے کہ کائنات ابتدا میں نہ صرف بہت زیادہ گرم اور کثیف تھی بلکہ اس میں میں ایک گرم مائع جیسی خصوصیات موجود تھیں۔ برمنگھم یونیورسٹی کے ماہرین سمیت اس ٹیم نے دنیا کے سب سے بڑے پارٹیکل کولائیڈر میں 'لیڈ' یعنی سیسے کے سب اٹامک ذرات کو آپس میں ٹکرانے کے بعد حاصل ہونے والے مشاہدوں سے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے۔

ہاڈران دراصل سب اٹامک ذرات کو کہتے ہیں یعنی وہ ذرات جن سے مل کر ایک ایٹم بنتا ہے۔ ایلس ایکسپیریمنٹ نامی اس تجربے میں سائنسدانوں نے لارج ہاڈران کولائیڈر میں سیسے کے ایٹمی ذرات کی رفتار بڑھا کر اب تک ممکن طاقتور ترین قوت کے ساتھ آپس میں ٹکرایا۔ اس ٹکراؤ کے نتیجے میں سب اٹامک ذرات پر مشتمل بہت زیادہ گرم اور کثیف آگ کے بگولوں کا مشاہدہ کیا گیا۔ سائنسدانوں کے مطابق یہ وہی کیفیت ہے، جو ہماری کائنات کی پیدائش کی وجہ بننے والے بِگ بینگ کے فوری بعد ایک سیکنڈ کے کئی لاکھویں حصے میں موجود رہی ہوگی۔ سائنسدانوں نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ اس تجربے کے دوران مشاہدہ کیے جانے والے منی بِگ بینگز کے نتیجے میں دس کھرب ڈگری سے زائد درجہ حرارت حاصل ہوا۔

خیال کیا جاتا ہے کہ اس درجہ حرارت پر عام مادہ پگھل کر ایک طرح کے 'سُوپ' کی شکل اختیار کرلیتا ہے جسے 'کوارک گلواون پلازما' کا نام دیا جاتا ہے۔ سیسے کے سب اٹامک ذرات کو ٹکرانے سے حاصل ہونے والے نتائج پہلے ہی فزکس کے کچھ تھیوریٹیکل ماڈلز کو ردّ کرچکے ہیں۔ انہی میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اتنے زیادہ درجہ حرارت پر بننے والا کوارک گلواون پلازما ایک گیس کی طرح عمل کرے گا۔

Teilchenbeschleuniger in Cern: Kollision von Atomkernen - freies Format

لارج ہاڈران کولائیڈر میں سیسے کے ایٹمی ذرات کی رفتار بڑھا کر اب تک ممکن طاقتور ترین قوت کے ساتھ آپس میں ٹکرایا گیا ہے

گوکہ اس سے قبل امریکہ میں موجودہ درجہ حرارت سے کم پر ٹکرائے جانے والے سب اٹامک ذرات کے مشاہدے سے پتہ چل چکا تھا کہ اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے پلازما مائع کی طرح کی خصوصیات ہوتی ہیں تاہم کچھ محققین کا خیال تھا کہ اتنی زیادہ توانائی سے جو موجودہ تجرے میں حاصل کی گئی ہے، اس پلازما میں گیس کی سی خصوصیات پیدا ہوجائیں گی۔

یونیورسٹی آف برمنگھم کے اسکول آف فزکس اینڈ ایسٹرونومی کے پروفیسر اور ایلس ایکسپیریمنٹ کے اہم محقق ڈاکٹر ڈیوڈ ایوانز کا کہنا ہے کہ ان تجربات کو بہت زیادہ وقت نہیں گزرا، اس کے باوجود ہم ابتدائےکائنات کے بارے میں بہت کچھ جاننے میں کامیاب ہوچکے ہیں۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ اس تجربے کے ابتدائی نتائج سے لگتا ہے کہ بِگ بینگ کے فوری بعد کائنات اپنی پیدائش کے ابتدا میں ایک بہت زیادہ گرم مائع کی طرح رہی ہوگی۔

ایلس ایکسپیریمنٹ کی ٹیم کے مطابق اس ٹکراؤ کے نتیجے میں پہلے سے موجود کچھ تھیوریٹیکل ماڈلز کی نسبت زیادہ سب اٹامک ذرات پیدا ہوئے۔ ٹکراؤ کے بعد بننے والے آگ کے بگولے بہت قلیل وقت کے لیے قائم رہے تاہم جب اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والا 'سُوپ' نما مادہ ٹھنڈا ہوا تو محققین نے مشاہدہ کیا کہ اس میں ہزاروں سب اٹامک ذرات ریڈی ایشن کی صورت میں خارج ہورہے تھے۔

رپورٹ: افسراعوان

ادارت: ندیم گِل

DW.COM

ویب لنکس