1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ابابیل بیلسٹک میزائل کا پہلا کامیاب تجربہ 

دفاعی تجزیہ کاروں کی رائے میں پاکستان کی افواج کی جانب سے 22 سو کلومیٹر تک اپنے ہدف کو نشانہ بنانے والے ابابیل بیلسٹک میزائل کے  کامیاب تجربے سے دفاعی اعتبار سے پاکستان کی ٹیکنالوجی اور ڈیٹرنس کی صلاحیت بڑھ گئی ہے۔

آئی ایس پی آر کی جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق ابابیل ’’زمین سے زمین تک مار کرنے والا بیلسٹک میزائل ہے جس سے 2200 کلو میٹر تک ہدف کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔‘‘ آئی ایس پی آر کے مطابق یہ میزائل ایک سے زائد اور جوہری اور دیگر ہتھیاروں سے لیس کیا جا سکتا ہے اور یہ میزائیل کامیابی سے اپنے ہدف کو نشانہ بنانےکی صلاحیت رکھتا ہے۔

دفاعی تجزیہ کار جنرل ریٹائرڈ امجد شعیب نے ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا،’’ پاکستان کو اس میزائل کو بنانے کی ضرورت اس لیے پیش آئی کیوں کہ گزشتہ برس بھارت نے اپنی میزائل ڈیفنس شیلڈ کا کامیاب تجربہ کیا تھا۔ پاکستان چاہتا ہے کہ خطے میں ایک توازن رہے اور اگر بھارت کسی اعتبار سے برتری لینے کی کوشش کرے تو پاکستان کے پاس بھی اس کا جواب موجود ہو۔‘‘

دفاعی تجزیہ کار جنرل ریٹائرڈ عبدالقیوم کی رائے میں جب تک خطے میں کشمیر کا مسئلہ ہے تب تک بھارت اور پاکستان کے درمیان جوہری ہتھیاروں کی دوڑ جاری رہے گی۔ جنرل قیوم کے بقول،’’پاکستان کی پالیسی ہے کہ خطے میں امن قائم ہو لیکن سن 1974 میں بھارت کی جانب سے جوہری دھماکوں کا تجربہ کیا گیا اور اس کے بعد سے پاکستان کو اپنا دفاع کرنا پڑا اور پھر جوہری تجربے بھی کرنے پڑے ۔‘‘

جنرل قیوم کی رائے میں ایک وقت تھا جب پاکستان نے جنوبی ایشیا میں جوہری ہتھیاروں کے خاتمے کی بھی بات کی تھی۔انہوں نے ڈی ڈبلیو کو بتایا،’’ سابق امریکی صدر بل کلنٹن اور باراک  اوبامہ یہ کہہ چکے ہیں کہ جنوبی ایشیا میں اصل مسئلہ کشمیر کا ہے۔ لہٰذا بین الاقوامی برادری کے کندھوں پر ذمہ داری ہے کہ اس مسئلے کو حل کرنے میں مدد فراہم کریں۔ مسئلہ کشمیر کے حل کے بغیر خطے میں امن کا قیام ممکن نہیں ہے اور اگر خطے میں امن ہو گا تو ایسے ہتھیاروں کے تجربوں کی ضرورت نہیں رہےگی۔‘‘ 

آئی ایس پی آر کے مطابق وزیر اعظم نواز شریف، صدر پاکستان ممنون حسین اور  پاکستانی افواج کے سربراہان کی جانب سے ابابیل بیلسٹک میزائل تیار کرنے والے سائنسدانوں اور انجینئرز  کی اُس ٹیم کو مبارک باد دی گئی ہے، جن کی کوششوں سے اس میزائل کا کامیاب تجربہ کیا گیا۔

DW.COM