1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

آیت اللہ علی خامنہ ای کا ایرانی قوم سے خطاب

ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے بارہ جون کے انتخابات میں کسی قسم کی دھاندلی کے امکانات کو رد کرتے ہوئے، محمود احمدی نژاد کو اگلی مدت صدارت کے لئے کامیاب قراد دے دیا ہے۔

default

علی خامنہ ای نے تہران یونیورسٹی میں خطاب کیا

خامنہ ای نے آج تہران یونیورسٹی میں جمعے کا خطبہ دیتے ہوئے کہاکہ اپوزیشن مظاہرین سڑکوں پر احتجا ج کرکے احمدی نژاد کے انتخاب کے فیصلے کو نہیں بدل سکتے، کیونکہ یہ فیصلہ ایرانی عوام نے باقاعدہ ووٹنگ کے ذریعے کیا ہے۔

خامنہ ای نے کہا کہ ان مظاہروں میں قانون کی خلاف ورزی کرنے یا کسی بھی قسم کے خون خرابے کی صورت میں تمام تر ذمہ داری ناکام قرار دئیے جانے والےصدارتی امیدوار میرحسین موسوی پر عائد ہوگی۔

بارہ جون کو منعقد ہونے والے ایرانی صدارتی انتخابات میں محمود احمدی نژاد کو ملک بھر سے 63 فیصد ووٹ حاصل ہوئے تھے، جس کے بعد ناکام امیدوار موسوی اور ان کے حامیوں نے احمدی نژاد پر گیارہ ملین ووٹوں کی دھاندلی کا الزام لگایا۔ اس کے ساتھ ہی اپوزیشن مظاہرین سڑکوں پر نکل آئے اور یہ سلسلہ اب تک جاری ہے۔

Iran Wahlen Reaktionen Demonstration Mir Hossein Mussawi Anhänger in Teheran

انتخابات کے بعد سے مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے

موسوی کے حامیوں نے ایران کی شوریءٰ نگہبان میں مبینہ انتخابی دھاندلی کے خلاف چھ سو سے زائد درخواستیں جمع کروائی ہیں۔ اپوزیشن کا مطالبہ ہے کہ انتخابات کے نتائج کو منسوخ کرکے ازسرنو انتخابات کا انعقاد کیا جائے۔ اس حوالے سے شوریٰء نگہبان کے ترجمان عباس علی کدخدائی نے کہا: ’’انتخابات میں دھاندلی کے حوالے سے درج کروائی گئی شکایات کا ہم نے دو اجلاسوں میں جائزہ لیا ہے۔ ہفتے کے روز شوریٰء نگہبان کے ارکان ایک بار پھر اکھٹے ہوں گے اور اپنا حتمی فیصلہ سنائیں گے۔‘‘

اپوزیشن نے کہا ہےکہ ایران میں جاری مظاہروں کے دوران سیکیورٹی اہلکاروں کے ساتھ جھڑپوں میں اب تک 43 سے زائد افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے ہیں۔ پیپلز مجاہدین آرگنائزیشن آف ایران نامی اپوزیشن جماعت کا ماننا ہے کہ ہلاک شدگان میں سے 30 کی اموات صرف تہران میں ہونے والے مظاہروں میں ہوئیں۔

ایرانی مظاہروں میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی اور انتخابی نتائج میں دھاندلی سے متعلق امریکی صدر باراک اوباما نے جمعرات کے روز کہا تھا: ’’مجھے ایرانی انتخابات کے نتائج کے بارے میں شدید تشویش ہے مگر امریکہ اور ایران کے تعلقات میں جاری کشمکش کی وجہ سے میں یہ تاثر نہیں دینا چاہتا کہ امریکہ ایران کے اندرونی معاملات میں مداخلت کر رہا ہے، کیونکہ ایرانی حکومت کو اس طرح مظاہرین کو بھرپور انداز میں دبانے کا موقع مل جائے گا۔‘‘

تاہم ایرانی سپریم لیڈرخامنہ ای نے صدر اوباما کے اس بیان کے پس منظر میں اپنے آج کے خطبے کے دوران مغربی ممالک پر ایران کے اندرونی معاملات میں مداخلت اور ایران کو سیاسی طور پر غیر مستحکم کرنے کا الزام بھی عائد کیا۔

رپورٹ : انعام حسن

ادارت: کشورمصطفیٰ

DW.COM