1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

آیت اللہ خامنہ ای قوم سے خطاب کریں گے

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای آج جمعہ کے روز قوم سے خطاب کرنے والے ہیں۔ متنازعہ صدارتی انتخابات کے بعد وہ پہلی بار قوم سے مخاطب ہو رہے ہیں۔

default

آیت اللہ خامنہ ای حالیہ صدارتی انخابات کے بعد پہلی بار قوم سے مخاطب ہیں

آیت اللہ خامنہ ای تہران میں نماز جمعہ کے اجتماع میں اپنے خیالات کا اظہار کریں گے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ لاکھوں افراد انہیں سننے کے لئےپہنچ رہے ہیں۔ ایرانی حکام نے لوگوں کو مقامی اجتماع گاہ کی جانب لے جانے کے لئے خصوصی بس سروس بھی شروع کی ہوئی ہے۔

مبصرین کا خیال ہے کہ آیت اللہ خامنہ ای کا یہ خطاب انتہائی اہم ہے کیونکہ اس میں ان کی پوری کوشش ہوگی کہ کسی طرح موجودہ سیاسی بحران پر قابو پا لیا جائے۔ مبصرین کا خیال ہے کہ ایک طرف تو ایرانی عوام اپنے روحانی پیشوا کے ساتھ یہ امیدیں وابستہ کر رہے ہیں کہ وہ اپوزیشن کو مفاہمت پر آمادہ کر سکیں گے۔ دوسری جانب یہ خدشات بھی اپنی جگہ موجود ہیں کہ وہ اس خطاب میں مظاہرین کے خلاف کسی کریک ڈاؤن کے احکامات دے سکتے ہیں۔ ایرانی دستور کے مطابق سپریم لیڈر کو غیر معمولی اختیارات حاصل ہوتے ہیں اور ملک میں کوئی قانون اور پالیسی سپریم لیڈر کی ایماء اور مرضی کے بغیر نہیں بن سکتی۔

Iran Wahlen 2009

سمجھا جاتا ہے کہ محمود احمدی نژاد کو خامنہ ای کی حمایت حاصل ہے

گزشتہ جمعے ہونے والے صدارتی انتخابات میں محمود احمدی نژاد بھاری اکثریت سے دوسری بار صدر منتخب ہوگئے تھے تاہم ناکام قرار دئیے جانے والے صدارتی امیدوار میر حسین موسوی نے انتخابی نتائج کو مسترد کرتے ہوئے انتخابات میں بڑے پیمانے پر فراڈ اور دھاندلی کا الزام عائد کیا اور مطالبہ کیا کہ صدارتی انتخابات کو ازسرنو منعقد کروایا جائے۔ ایران کے اعلٰی ترین قانون ساز ادارے شوریٰ نگہبان نے ان شکایات پر ووٹوں کی نئے سرے سے گنتی کا اعلان کیا تھا تاہم ازسرنو انتخابات منعقد کروانے کا مطالبہ مسترد کر دیا گیا تھا۔

اس اعلان کے بعد تہران سمیت ملک بھر میں پرتشدد مظاہروں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ ان مظاہروں میں آٹھ افراد کی ہلاکت کے بعد مزید شدت پیدا ہو گئی۔ جمعرات کے روز میر حسین موسوی کے حامیوں نے مرنے والوں کی یاد میں یوم سوگ منایا۔ اس موقع پر ایک بڑی ریلی بھی منعقد ہوئی۔ اس ریلی میں ہزاروں افراد شریک تھے۔ مظاہرین نے سیاہ لباس پہنچ رکھے تھے اور ان کے ہاتھوں میں موم بتیاں تھیں۔



رپورٹ : عاطف توقیر

ادارت : امجد علی

DW.COM