1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

آگ کی پوجا، ’ہے بھگوان، ٹرمپ کو ہی جتوانا‘

بھارت میں دائیں بازو کے کٹر نظریات کے حامل ایک ہندو گروہ نے نئی دہلی میں پوجا کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ کی کامیابی کی دعا کی ہے۔ ری پبلکن سیاستدان ٹرمپ اپنی انتخابی ریلیوں میں اسلام مخالف بیانات سے بھی تنازعات کھڑے کیے ہیں۔

Indien Feuerritual Splitterpartei Hindu Sena unterstützt Trump

ہندو اساطیر میں ماتھے پر لال رنگ کا ٹیکا لگانا دراصل اچھی قسمت کی علامت تصور کیا جاتا ہے

کٹر نظریات کے حامل گروہ ’ہندو سینہ‘ نے دارالحکومت نئی دہلی میں ایک خصوصی مذہبی تقریب کا انعقاد کیا، جس میں دعا کی گئی کہ بھگوان امریکی صدارتی انتخابات میں ری پبلکن سیاستدان ڈونلڈ ٹرمپ کو کامیابی سے ہمکنار کرے۔

DW.COM

اسلام مخالف بیانات کی وجہ سے اس ہندو گروہ نے مبینہ طور پر ٹرمپ کی حمایت کے لیے دعا کی ہے۔

نئی دہلی کے علاقے ’جنتر منتر‘ میں درجنوں افراد نے اس تقریب میں شرکت کی۔ آگ میں کی گئی اس پوجا کے دوران ہنومان بھگوان اور ڈونلڈ ٹرمپ کی تصاویر بھی وہاں نصب تھیں جبکہ ان کے ماتھوں پر ٹیکا بھی لگایا گیا تھا۔

ہندو اساطیر میں ماتھے پر لال رنگ کا ٹیکا لگانا دراصل اچھی قسمت کی علامت تصور کیا جاتا ہے۔

اس گروہ کے صدر وشنو گپتا نے کہا کہ ٹرمپ ایک بہادر انسان ہے اور اس نے وعدہ کیا ہے کہ اگر وہ امریکا کا صدر بن جاتا ہے تو وہ اسلامی انتہا پسندی کا خاتمہ کر دے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس بات پر ٹرمپ کی حمایت کرنا جائز ہے۔

ٹرمپ اپنی سیاسی پارٹی کی طرف سے صدارتی امیدوار کے فیورٹ امیدوار قرار دیے جا رہے ہیں۔

جنتر منتر میں خصوصی پوجا کی گیارہ مئی کو ہونے والی تقریب کے بعد گپتا نے صحافیوں کو بتایا کہ ہندوازم میں آگ کی پوجا کی بہت زیادہ اہمیت ہے، ’’ بھگوان کی رحمت حاصل کرنے کی خاطر یہ عبادت کی جاتی ہے۔‘‘

Indien Feuerritual Splitterpartei Hindu Sena unterstützt Trump

نئی دہلی کے علاقے ’جنتر منتر‘ میں درجنوں افراد نے اس تقریب میں شرکت کی

ناقدین کے بقول کٹر نظریات کے حامل ان ہندوؤں کی طرف سے ٹرمپ کی حمایت کوئی انہونی بات نہیں ہے۔

’ہندو سینہ‘ بھی بھارت میں کئی دیگر کٹر نظریات کے حامل گروہوں کی طرح فعال ہے۔ یہی گروہ پاکستان کے ایک سنگر کی بھارت میں پرفارمنس کو رکوانے میں آگے آگے تھا۔

بھارت میں کئی مرتبہ دہشت گردانہ حملے کیے جا چکے ہیں۔ نئی دہلی کا کہنا کہ ان حملوں کے پیچھے نہ صرف اسلامی انتہا پسندوں کا ہاتھ ہے بلکہ ان حملہ آوروں کو پاکستان میں سرگرم جنگجو گروہوں کا تعاون بھی حاصل رہا ہے۔