آکسفورڈ يونيورسٹی نے سوچی سے اعزاز واپس لے ليا | حالات حاضرہ | DW | 28.11.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

آکسفورڈ يونيورسٹی نے سوچی سے اعزاز واپس لے ليا

روہنگيا مسلم اقليت کے خلاف مبينہ مظالم کی روک تھام کے ليے کوئی خاص اقدامات نہ کرنے پر برطانيہ کی آکسفورڈ يونيورسٹی نے ميانمار کی نوبل امن انعام يافتہ رہنما آنگ سان سوچی سے ’فريڈم آف دا سٹی‘ نامی ايوارڈ واپس لے ليا ہے۔

آکسفوڈ يونيورسٹی کے مطابق سن 1997 ميں سوچی کو اس اعزاز سے اس ليے نوازا گيا تھا کيونکہ اس وقت وہ اس نامور تعليمی ادارے کے اقدار اور اس کے نظريات سے مطابقت رکھتی تھيں۔ يونيورسٹی انتظاميہ کی جانب سے پير کو رات گئے اس بارے ميں جاری کردہ بيان ميں واضح کيا گيا کہ سوچی سے يہ اعلیٰ ترين شہری اعزاز واپس اس ليے ليا گيا کيونکہ روہنگيا اقليت کے خلاف ہونے والے مظالم پر ان کی طرف سے کوئی واضح کوشش نہیں کی گئی۔

رواں سال اگست ميں ميانمار کی فوج نے شمالی راکھين رياست ميں باغيوں کے خلاف آپريشن شروع کيا تھا۔ اس وقت سے لے کر اب تک قريب چھ لاکھ روہنگيا مسلمان پناہ کے ليے بنگلہ ديش فرار ہو چکے ہيں اور اس وقت کوکس بازار کے علاقے ميں ايک کافی بڑے مہاجر کيمپ ميں مقيم ہيں۔ ميانمار سے فرار ہونے والے افراد ملکی فوج پر جنسی زيادتی، تشدد اور قتل عام کے الزامات عائد کرتے ہيں جبکہ فوج ايسے الزامات مسترد کرتی ہے۔ اقوام متحدہ ميں انسانی حقوق کے ادارے اور کئی غير سرکاری تنظيميں ميانمار ميں فوج کے ہاتھوں انسانی حقوق کی سنگين خلاف ورزيوں کی طرف اشارہ کر چکے ہيں، جس کے سبب خاتون رہنما آنگ سان سوچی کافی تنقيد کی زد ميں رہی ہيں۔

آکسفورڈ يونيورسٹی نے اپنے تحريری بيان ميں مزيد لکھا ہے، ’’تشدد سے منہ موڑ لينے والوں کو اعزازی حيثيت ميں رکھنے سے ہماری ساکھ منفی انداز سے متاثر ہوتی ہے۔‘‘ يہ امر اہم ہے کہ عالمی شہرت يافتہ اس تعليمی ادارے نے اس سال ستمبر ميں ہی سوچی کی تمام تصاوير ہٹا دی تھيں۔ سوچی ماضی میں آکسفورڈ يونيوسٹی ميں طالبہ رہ چکی ہيں اور ان کی تصاوير کئی ديواروں پر آویزاں تھيں۔