1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’آپ یہاں کیوں آئے؟‘: یورپی پارلیمان کے برطانوی ارکان سے سوال

برطانیہ کے یورپی یونین سے اخراج کے فیصلے کے بعد برسلز میں ہونے والے یورپی پارلیمان کے پہلے اجلاس میں شریک برطانوی ارکان کو یورپی کمیشن کے صدر ژاں کلود یُنکر کے اس سوال کا سامنا کرنا پڑا: ’آپ یہاں کیوں آئے ہیں؟‘

Jean-Claude Juncker und Nigel Farage EU Parlament Brüssel

ژاں کلود یُںکر اور نائجل فیرَج یورپی پارلیمان میں آمد پر ایک دوسرے کو ملتے ہوئے

برسلز سے منگل اٹھائیس جون کو موصولہ نیوز ایجنسی روئٹرز کی رپورٹوں کے مطابق آج سے پہلے یورپی یونین کے یُنکر جیسے کسی انتہائی اعلیٰ عہدیدار کی طرف سے کسی بھی رکن ملک سے تعلق رکھنے والے منتخب ارکان پارلیمان سے ایسا کوئی سوال کبھی نہیں پوچھا گیا تھا۔ تاہم روئٹرز کے مطابق یُنکر کے اس سوال کی وجہ برطانوی عوام کا تئیس جون کو بریگزٹ ریفرنڈم میں کیا جانے والا یہ اکثریتی فیصلہ بنا کہ برطانیہ کو یورپی یونین سے نکل جانا چاہیے۔

یورپی پارلیمان، جو اپنے سات سو سے زائد ارکان کے ساتھ دنیا کے سب سے بڑے منتخب پارلیمانی اداروں میں شمار ہوتی ہے اور جس میں اب تک یونین کے تمام 28 رکن ملکوں کے منتخب سیاستدانوں کو نمائندگی حاصل ہے، کا ایک خصوصی اجلاس آج اس مقصد کے تحت بلایا گیا تھا کہ اس میں برطانوی ریفرنڈم کے نتائج اور ان کے اثرات پر بحث کی جا سکے۔

اس اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے یورپی کمیشن کے صدر یُنکر نے برطانیہ کی یورپ مخالف سیاسی جماعت UKIP سے تعلق رکھنے والے ارکان کو مخاطب کرتے ہوئے پوچھا کہ وہ اس اجلاس میں کیوں موجود تھے؟

یورپی کمیشن کے صدر نے اپنی تقریر کے آغاز پر کہا کہ یونین برطانوی جمہوریت کی عزت کرتی ہے اور برطانوی عوام کی اس سوچ کی بھی، جس کا مظاہرہ انہوں نے بریگزٹ ریفرنڈم میں کیا۔ اس پر اجلاس میں موجود یورپ میں برطانیہ کی خود مختاری کی حامی اور یونین پر تنقید کرنے والی جماعت یو کے آئی پی کے ارکان نے تالیاں بجا کر یُنکر کے موقف کو سراہا۔ یہ ایک ایسا منظر تھا جو یورپی پارلیمان میں پہلے بہت ہی کم دیکھا گیا تھا۔

Straßburg EU Parlament Sitzung Übersicht Symbolbild

یورپی پارلیمان کا یہ خصوصی اجلاس دو روز جاری رہے گا

اس کے بعد ژاں کلود یُنکر نے اپنی تقریر جاری رکھتے اور برطانوی ارکان سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا، ’’یہ آخری موقع ہے کہ آپ یہاں تالیاں بجا رہے ہیں۔ اور کسی حد تک میں اس بات پر حیران بھی ہوں کہ آپ اس وقت یہاں ایوان میں موجود ہیں۔ آپ تو برطانیہ کے یونین سے اخراج کے حامی ہیں۔‘‘ پھر یُنکر نے اپنی تقریر کے تحریری متن سے ہٹ کر انہی ارکان سے یہ بھی پوچھا لیا، ’’آپ یہاں پر موجود کیوں ہیں؟‘‘

روئٹرز کے مطابق یورپی پارلیمان میں آج جس وقت یورپی کمیشن کے صدر ژاں کلود یُنکر خطاب کر رہے تھے، ان سے کچھ ہی دور اپنی سیٹ پر UKIP کے رہنمکا نائجل فیرَج بھی بیٹھے ہوئے تھے، جنہوں نے یُنکر کی زیادہ تر جرمن اور فرانسیسی زبانوں میں کی جانے والی تقریر ہیڈ فونز کے ذریعے سنی اور اس وقت نائجل فیرَج کے سامنے ان کے ڈیسک پر برطانیہ کا یونین جیک کہلانے والا پرچم بھی رکھا تھا۔

اس موقع پر یُنکر نے مزید کہا کہ وہ برطانوی ریفرنڈم کے نتائج پر اپنی اداسی کے باعث کوئی معذرت خواہانہ رویہ نہیں اپنائیں گے کیونکہ وہ ’کوئی روبوٹ‘ نہیں ہیں۔ لیکن ساتھ ہی انہوں نے واضح طور پر یہ بھی کہہ دیا کہ برطانیہ کو یونین سے اپنی علیحدگی کا عمل شروع کرنے میں اب کوئی تاخیر نہیں کرنی چاہیے۔

یورپی کمیشن کے صدر نے برطانیہ کے نام اپنے کھلے پیغام میں یہ بھی کہہ دیا، ’’جب تک برطانیہ (لزبن معاہدے کی پچاسویں شق کے تحت اپنی رکنیت کے خاتمے کی باقاعدہ کارروائی کے آغاز کا) نوٹیفیکیشن جاری نہیں کرتا، برسلز کی طرف سے اس کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں کیے جائیں گے۔‘‘

اس موقع پر ارکان پارلیمان سے اپنے خطاب میں نائجل فیرَج نے کہا، ’’جب میں 17 برس قبل یہاں آیا تھا تو میں نے کہا تھا کہ میں برطانیہ کے یورپی یونین سے اخراج کی مہم کی قیادت کروں گا۔ تب آپ سب ارکان مجھ پر ہنسے تھے۔ لیکن کیا یہ بہت دلچسپ بات نہیں ہے کہ آج آپ ہنس نہیں رہے۔‘‘

یورپی پارلیمان کے ارکان سے اپنے خطاب میں برطانوی قوم پسند سیاستدان فیرَج نے مزید کہا، ’’آپ نے یورپی عوام پر ایک سیاسی یونین مسلط کر دی ہے۔ لیکن برطانیہ یورپی یونین سے نکل جانے والا آخری ملک نہیں ہو گا۔‘‘

DW.COM