1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

آپ کی ایک ایک حرکت نظر میں ہے

آپ کس وقت، کس شخص کو فون کرتے ہیں، کب اور کہاں انٹرنیٹ پر جاتے ہیں، وہاں کیا کچھ دیکھتے اور پڑھتے ہیں، ای میلز کسے اور کیوں لکھتے ہیں، کوئی بھی چیز ایسی نہیں ہے، جو یورپی یونین کے تفتیش کاروں کی دسترس میں نہ ہو۔

default

یورپی یونین میں دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے سن 2006ء میں خصوصی ضوابط متعارف کروائے گئے تھے، جن میں ٹیلی کوم اداروں کو تمام شہریوں کی ٹیلیفون گفتگو، انٹرنیٹ روابط اور ای میلز کو محفوظ کر لینے کا پابند کیا گیا تھا تاکہ بعد میں تفتیش کاروں کو جرائم پیشہ افراد تک پہنچنے میں آسانی ہو۔ جہاں ایک طرف یورپی یونین اپنے تمام رکن ممالک پر اِن ضوابط کی پاسداری کے لیے دباؤ ڈال رہی ہے، وہاں عام شہری اِن ضوابط کے خلاف سخت احتجاج کر رہے ہیں۔

احتجاج کی وجہ بہت واضح ہے یعنی حکام محض ایک امکان کو سامنے رکھتے ہوئے شہریوں کی پوری نجی زندگی کو کنٹرول کرنا چاہتے ہیں۔ جرمنی کی انٹرنیشنل ہیومن رائٹس لیگ نے ان ضوابط کو شہریوں کی نگرانی کے حوالے سے یورپی یونین کی تاریخ کے سب سے زیادہ دور رَس اثرات والے اور غیر مقبول ترین اقدامات قرار دیا ہے۔

دارالحکومت برلن میں وفاقی جرمن پارلیمان کے قریب شہریوں کے ذاتی ڈیٹا کو محفوظ رکھے جانے کے حکومتی اقدامات کے خلاف ہونے والا ایک احتجاجی مظاہرہ

دارالحکومت برلن میں وفاقی جرمن پارلیمان کے قریب شہریوں کے ذاتی ڈیٹا کو محفوظ رکھے جانے کے حکومتی اقدامات کے خلاف ہونے والا ایک احتجاجی مظاہرہ

اِن ضوابط کے خلاف انٹرنیٹ پر گردش کرنے والی احتجاجی ویڈیوز کو لوگ کئی ملین مرتبہ کلک کر چکے ہیں، جن میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ تفتیش کار بوقتِ ضرورت آپ کے کمپیوٹر تک بھی رسائی حاصل کر سکتے ہیں، آپ کی نجی تصاویر دیکھ سکتے ہیں، آپ کا سارا ڈیٹا وہاں سے اپنے کمپیوٹرز پر منتقل کر سکتے ہیں، حتیٰ کہ اپنی مرضی سے اُس میں تبدیلیاں کر کے پھر سے واپس آپ کے کمپیوٹر میں منتقل کر سکتے ہیں۔

یورپی یونین کی داخلہ امور کی کمشنر سیسیلیا مالم سٹروئم نے لیکن عمر رسیدہ شہریوں کے ساتھ دھوکہ دہی کے کچھ واقعات میں کامیاب تفتیش کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ضوابط اتفاقِ رائے سے طے ہوئے تھے اور اب اِن کی پاسداری ہر ملک پر لازم ہے۔ اُنہوں نے البتہ اعتراف کیا کہ یہ ڈیٹا کسی حد تک غیر محفوظ ہو سکتا ہے۔ اِس لیے اُنہوں نے یقین دلایا ہے کہ ان کوائف کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے ان ضوابط میں اس سال کے آخر تک ضروری ترامیم کی جائیں گی۔

وفاقی جرمن آئینی عدالت نےمارچ 2010ء میں جرمن پارلیمان کے منظور کردہ ایک قانون کو خلافِ آئین قرار دے دیا تھا

وفاقی جرمن آئینی عدالت نےمارچ 2010ء میں جرمن پارلیمان کے منظور کردہ ایک قانون کو خلافِ آئین قرار دے دیا تھا

یورپی یونین کے سات رکن ملکوں نے ابھی یہ ضوابط اپنے ہاں رائج نہیں کیے، جن میں سویڈن، آسٹریا، رومانیہ اور چیک ری پبلک کے ساتھ ساتھ جرمنی بھی شامل ہے، جہاں کی آئینی عدالت شہریوں کے نجی ڈیٹا کو غیر محفوظ خیال کرتی ہے۔ جرمنی کو اب یورپی یونین کے حکام اِس پاداش میں تعزیری کارروائی اور جرمانے کی دھمکی دے رہے ہیں۔

یورپی یونین کے انہی ضوابط کی بنیاد پر جرمن پارلیمان نے ایک قانون کی منظوری دی تھی، جو یکم جنوری 2008ء سے نافذ العمل ہوا تھا۔ تاہم چند سرکردہ جرمن سیاستدانوں اور تقریباً 34 ہزار جرمن شہریوں نے اِس قانون کے خلاف وفاقی جرمن آئینی عدالت سے رجوع کر لیا، جس نےمارچ 2010ء میں اِس قانون کو خلافِ آئین قرار دے دیا۔

اب اِن ضوابط کے مخالفین کی تمام تر امیدیں لکسمبرگ میں قائم یورپی عدالت سے وابستہ ہیں، جو اپنا فیصلہ سن 2012ء میں سنانے والی ہے۔ یورپی عدالت کو یہ بتانا ہو گا کہ آیا شہریوں کی نگرانی کے یہ ضوابط یورپی یونین کے 2009ء کے اواخر میں نافذ العمل ہونے والے بنیادی منشور اور یورپی حقوقِ انسانی کنونشن سے مطابقت رکھتے ہیں۔ غالباً جرمن حکام بھی اِس فیصلے کا انتظار کرنے کے بعد ہی اِس ضمن میں کوئی پیشرفت کرنا چاہتے ہیں۔

رپورٹ: امجد علی

ادارت: عدنان اسحاق

DW.COM

ویب لنکس