آپ تو بچے کے باپ ہیں، جرمن ماں کی اپیل پر عدالتی فیصلہ | معاشرہ | DW | 04.01.2018
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

آپ تو بچے کے باپ ہیں، جرمن ماں کی اپیل پر عدالتی فیصلہ

جرمنی کی ایک وفاقی عدالت نے ایک ایسی خاتون کو اپنے ہی بچے کی ماں تسلیم کرنے سے انکار کر دیا، جو برسوں پہلے مرد تھی۔ اس فیصلے کی وجہ یہ بنی کہ بچہ اسی خاتون کے برسوں پہلے محفوظ کردہ مردانہ تولیدی جرثومے سے پیدا ہوا تھا۔

default

وفاقی جرمن عدالت انصاف کا لوگو

وفاقی دارالحکومت برلن سے جمعرات چار جنوری کو موصولہ نیوز ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹوں کے مطابق جنوبی شہر کارلسروہے میں وفاقی عدالت انصاف نے یہ فیصلہ ایک ایسی اپیل پر سنایا، جو ایک صوبائی عدالت کے فیصلے کے خلاف دائر کی گئی تھی۔

ملائیشیائی ریاست ٹرانس جینڈرز کا ’علاج‘ کرے گی

خواجہ سراؤں کو امریکی فوج میں نہیں رکھا جائے گا، ٹرمپ

اس اپیل کی محرک جنسی تبدیلی کے عمل سے گزرنے والی ایک ایسی جرمن خاتون تھی، جو 2012ء تک ایک مرد تھی۔ اپنی جنس تبدیل کروانے سے قبل اس مرد نے اپنے سپرم ایک میڈیکل بینک میں محفوظ بھی کرا لیے تھے۔ پھر تین برس بعد اس ’سابقہ مرد‘ کی خاتون شریک حیات نے ایک ایسے بچے کو جنم دیا، جس کی پیدائش کے لیے سپرم اسی کا استعمال کیا گیا تھا۔

بچے کی پیدائش کے بعد اس ٹرانس جینڈر ماں نے اپنے شہر میں بلدیاتی رجسٹریشن آفس میں یہ درخواست دے دی تھی کہ نومولود کے نام کا اندراج کرتے ہوئے خود اس کا اپنا نام ماں کے خانے میں لکھا جائے کیونکہ اب وہ ایک خاتون ہے۔

Symbolbild Vertrauen Baby Hand

یہ بچہ درخواست دہندہ کی جنس کی تبدیلی کے تین سال بعد پیدا ہوا تھا

شہری انتظامیہ کی طرف سے انکار کے بعد معاملہ ایک صوبائی عدالت میں پہنچا تو وہاں بھی اس خاتون کا موقف مسترد کر دیا گیا۔ اس پر کارلسروہے میں وفاقی عدالت انصاف میں اپیل دائر کی گئی تو آج جمعرات کے روز اس کا فیصلہ بھی اس ’سابقہ مرد اور موجودہ خاتون‘ کے خلاف گیا۔

مردم شماری کا آغاز، سروے فارم میں ’ٹرانس جینڈر کا کالم غائب‘

پاکستان میں مردم شماری، ٹرانس جینڈر بھی شمار کیے جائیں گے

وفاقی عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ اگرچہ یہ شہری اب ایک خاتون ہے مگر بچہ تو اسی کے تولیدی جرثومے سے پیدا ہوا تھا۔ اس کے علاوہ مروجہ ملکی قوانین بھی یہی کہتے ہیں کہ بچہ جس مرد (چاہے اب وہ مرد نہ رہا ہو) کے سپرم سے پیدا ہوا ہو، وہ بچے کا باپ ہوتا ہے اور اس کا نام ماں کے طور پر نہیں لکھا جا سکتا۔

اس کے علاوہ عدالت نے اپنے فیصلے میں یہ بھی کہا کہ حیاتیاتی افزائش نسل کے عالمگیر اصولوں کے تحت کسی بھی بچے کی پیدائش کے عمل میں جس جاندار کا بیضہ ہوتا ہے، وہ ماں تصور ہوتی ہے اور جس کا جرثومہ ہو وہ باپ۔

Sperma

درخواست دہندہ نے جنس کی تبدیلی سے قبل اپنے سپرم ایک میڈیکل بینک میں محفوظ کروا دیے تھے

بنیادی سماجی اور انسانی حقوق کی سطح پر اس مقدمے کی اہم بات یہ تھی کہ اس میں درخواست دہندہ نے یہ موقف اختیار کیا تھا کہ ٹرانس جینڈر شہریوں کو بھی بالکل یکساں حقوق حاصل ہیں اور اب اگر وہ ایک خاتون ہے تو اسے سرکاری ریکارڈ میں بھی بچے کی ماں ہی لکھا جائے، نہ کہ باپ۔

ایک غلط جسم میں قید ہونا کیسا لگتا ہے؟

پاکستان کی پہلی ٹرانس جینڈر ماڈل

اس پر عدالت نے فیصلہ یہ سنایا کہ جرمنی میں مروجہ قانون وراثت کے تحت اس درخواست دہندہ شہری کی موجودہ جنس جو بھی ہو، بچے کی پیدائش کی وجہ بننے والے اسباب اور حالات میں اگر سپرم اسی شہری کا تھا، تو اسے قانوناﹰ صرف اس بچے کا والد ہی تسلیم کیا جا سکتا ہے، جس سے اس کے کسی بھی طرح کے حقوق کی کوئی نفی بھی نہیں ہوتی۔

ویڈیو دیکھیے 03:39
Now live
03:39 منٹ

ٹرانس جینڈرز کے لیے اعلیٰ تعلیم کے دروازے کھُل گئے

DW.COM

Audios and videos on the topic