1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’آپریشن مشترک میں بڑی کارروائیاں ختم ہو گئیں‘

امریکی فوجی قیادت نے کہا ہے کہ ہلمند کے وسطی علاقے مرجاہ میں جاری آپریشن مشترک کے تحت بڑی کارروائیاں روک دی گئی ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس علاقے میں کسی حد تک لڑائی آئندہ کئی ہفتوں تک جاری رہے گی۔

default

افغانستان کے جنوبی علاقوں میں موجود امریکی افواج کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل بین ہوجز نے قندھار سے ایک امریکی ٹیلی ویژن سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کے خیال میں طالبان عسکریت پسندوں کی اکثریت یا تو ہلاک ہو چکی ہے یا پھر وہ عام شہریوں میں شامل ہوگئے ہیں۔ تاہم انہوں نے کہا کہ نیٹو اور افغان افواج کو مرجاہ کے جنوب میں واقع نواحی علاقوں کا مکمل کنٹرول حاصل کرنے میں مزید چند ہفتے لگ سکتے ہیں۔

بریگیڈیئر جنرل بین ہوجز کے مطابق علاقے میں موجود طالبان کی قیادت 13 فروری کو نیٹو افواج کا آپریشن شروع ہوتے ہی علاقے سے فرار ہوگئی تھی۔

طالبان کے زیر اثر افغان صوبے ہلمند کے وسطی علاقے مرجاہ اور اس کے گردونواح میں نیٹو کا یہ آپریشن 13 فروری کو شروع ہوا تھا۔ اس آپریشن کو 2001ء میں افغانستان پر نیٹو کے حملے کے بعد طالبان کے خلاف اب تک کی سب سے بڑی کارروائی قرار دیا گیا جس میں 15 ہزار اتحادی فوجی حصہ لے رہے ہیں۔ اس مشن کا مقصد ان علاقوں سے طالبان اور منشیات کا کاروبار کرنے والوں کا کنٹرول ختم کرنا ہے۔

اس سے قبل جمعرات کو مغربی دفاعی اتحاد نیٹو نے مرجاہ کا انتطام مقامی حکام کے حوالے کر دیا، جہاں باقاعدہ افغانستان کا پرچم لہرایا گیا۔ تاہم نیٹو افواج نے ’آپریشن مشترک‘ میں ابھی تک فتح کا اعلان نہیں کیا۔

دوسری طرف وائٹ ہاؤس کے ایک سینیئر عہدیدار نے مرجاہ آپریشن کو قندھار میں کئے جانے والے بڑے فوجی آپریشن کی تیاری قرار دیا۔ اوباما

NO FLASH Afghanistan Großoffensive U.S. Marines

مرجاہ میں اتحادی فوجیوں کو 13 فروری کو ہیلی کاپٹروں کی مدد سے اتارا گیا

انتظامیہ کے اس عہدیدار کے مطابق طالبان کا گڑھ سمجھے جانے والے شہر قندھار کا مکمل کنٹرول حاصل کرنے کے لئے اسی برس ایک بڑا آپریشن کیا جائے گا۔

اس سے قبل افغانستان میں موجود نیٹو افواج کے امریکی کمانڈر جنرل سٹینلے میک کرسٹل بھی اس بات کا عندیہ ظاہر کرچکے ہیں کہ مرجاہ میں جاری آپریشن کی تکمیل کے بعد قندھار کا مکمل کنٹرول حاصل کیا جائے گا۔

رپورٹ: افسر اعوان

ادارت: ندیم گِل

DW.COM