1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

آٹھ ہزار سے زائد پاکستانی دہشت گردی کا شکار

پاکستان کی وزارت داخلہ کے مطابق گزشتہ پانچ برسوں میں ہونے والے دہشت گردانہ واقعات کے نتیجے میں آٹھ ہزار سے زائد پاکستانی جاں بحق ہو چکے ہیں۔ ان واقعات میں ہزاروں دوسرے زخمی بھی ہوئے۔

حکومت پاکستان نے گزشتہ پانچ برسوں کے دوران ملک کے مختلف حصوں میں رونما ہونے والے دہشت گردانہ واقعات کے دوران ہونے والی ہلاکتوں کے اعداد و شمار جاری کیے ہیں۔ ملک کی داخلی سلامتی کی ذمہ دار وزارتِ داخلہ کی جانب سے جاری ہونے والے بیانات کے مطابق پچھلے پانچ برسوں کے دوران دہشت گردی کی لپیٹ میں آنے والی عام پاکستانیوں کی تعداد آٹھ ہزار پانچ سو سے زائد ہے۔ ان میں فوج، نیم فوجی دستوں اور پولیس و رینجرز کے اہلکار بھی شامل ہیں۔ ہلاک ہونے والے دہشت گرد اِس تعداد میں شامل نہیں کیے گئے ہیں۔

پاکستانی وزارتِ داخلہ کے مطابق دہشت گردانہ واقعات میں سویلین ہلاکتوں کی تعداد پانچ ہزار 532 ہے جبکہ سکیورٹی فورسز کے مرنے والے اہلکاروں کی تعداد تین ہزار 157 ہے۔ زخمی ہونے والے عام شہریوں کی تعداد دس ہزار 195 ہے جبکہ زخمی ہونے والے سکیورٹی اہلکار پانچ ہزار 988 ہیں۔

دوسری طرف فوج اور نیم فوجی دستوں کے ساتھ ساتھ پولیس کی مسلح کارروائیوں میں 3759 دہشت گرد اور عسکریت پسند مارے گئے۔ اِن میں ہلاک کیے گئے غیر ملکی دہشت گرد بھی شامل ہیں۔

Pakistan Islamabad Anschlag auf schiitische Moschee

گزشتہ برس کے وسط میں شروع ہونے والےعسکری آپریشن سے سلامتی کی صورت حال بہتر بتائی گئی ہے

پاکستان کے شمال مغربی صوبے خیبر پختونخوا سے جڑے نیم خود مختار قبائلی علاقہ جات میں فوج کا عسکری آپریشن بھی جاری ہے۔ شورش زدہ قبائلی علاقوں میں ہلاک ہونے والے سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کی تعداد ایک ہزار 487 ہے جو گزشتہ پانچ برسوں کے دوران سارے ملک میں ہلاک ہونے والے باوردی ملازمین کی مجموعی تعدادکا تقریباً نصف بنتا ہے۔ لاقانونیت سے عبارت قبائلی علاقہ جات میں جاری عسکری کارروائیوں کے دوران زخمی ہونے والے سکیورٹی اہلکار دو ہزار 224 ہیں۔

افغانستان کی سرحد سے جڑے پاکستانی قبائلی علاقے میں فوج اور نیم فوجی دستوں کے ساتھ عسکریت پسندوں کی جھڑپوں اور دہشت گردانہ حملوں میں ہلاک ہونے والے سویلین ایک ہزار 470 ہیں۔ اِس سے اندازہ ہوتا ہے کہ گزشتہ پانچ برسوں کے دوران ہونی والی عام شہریوں کی تہتر فیصد کے قریب ہلاکتیں قبائلی علاقوں سے باہر پاکستان کے مختلف شہروں اور قصبوں میں ہوئی ہیں۔ قبائلی علاقوں میں زخمی ہونے والے شہریوں کی تعداد دو ہزار 761 ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ مسلح انتہا پسندوں کے خلاف گزشتہ برس کے وسط میں شروع کیا جانے والا عسکری آپریش ’ضربِ عضب‘ سکیورٹی کی مجموعی صورت حال میں بہتری کا سبب بنا ہے اور قبائلی علاقوں میں دندناتے انتہا پسند کسی حد تک کنٹرول میں ہیں۔

DW.COM