1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

آٹھ ہزار سے زائد شامی حلب سے نکل گئے ہیں، روس

روسی فوج کا کہنا ہے کہ شامی شہر حلب کے باغیوں کے زیر قبضہ مشرقی حصے سے آٹھ ہزار سے زائد سویلین افراد نکل گئے ہیں۔ قبل ازیں روسی فوج نے حلب پر اپنے حملے روکنے کا اعلان کیا ہے۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق شام میں قائم ’’ملٹری سینٹر فار ری کنسیلیئیشن‘‘ کی طرف سے آج جمعہ نو دسمبر کو بتایا گیا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران حلب کے مشرقی حصوں سے 8,461 سویلین نکلے۔ ان میں 2,934 بچے بھی شامل ہیں۔
حلب شہر کے قدیمی حصے پر شامی فوج  کا کنٹرول

اس سینٹر کی طرف سے یہ بھی بتایا گیا ہے کہ 14 عسکریت پسندوں نے ہتھیار پھینک کر خود کو حکام کے حوالے کیا ہے جنہیں امان دے دی گئی۔

Syrien syrischer Soldat mit Flagge (picture-alliance/AP Photo/H. Ammar)

شامی فورسز حالیہ دنوں کے دوران حلب کے مشرقی حصے کے ان زیادہ تر علاقوں کا کنٹرول دوبارہ حاصل کر چکی ہیں

یہ بیان روسی وزیر خارجہ سیرگئی لاؤروف کے اُس اعلان کے کئی گھنٹوں بعد سامنے آیا ہے جس کے مطابق عام شہریوں کو انخلاء کا راستہ دینے کے لیے فائر بندی کی گئی ہے۔ ان کے بقول شامی حکومتی دستے بھی لڑائی روک چکے ہیں۔ بتایا گیا کہ اس علاقے میں کم از کم آٹھ ہزار افراد محصور افراد کو ایک مخصوص راستے سے باہر نکلنے کی اجازت دی گئی ہے۔

تاہم دوسری جانب باغیوں کے ذرائع نے کہا کہ روس اور اسد دستوں کی جانب سے بدستور حملے کیے جا رہے ہیں۔ امریکا کی جانب سے اس پیش رفت پر انتہائی محتاط رویہ اختیار کیا گیا ہے۔

ویڈیو دیکھیے 02:40

حلب ’’ایک بڑے قبرستان‘‘ میں بدل جانے کے خطرے سے دو چار

شامی صدر بشار الاسد کی فورسز حالیہ دنوں کے دوران شام کے شمالی شہر حلب کے مشرقی حصے کے ان زیادہ تر علاقوں کا کنٹرول دوبارہ حاصل کر چکی ہیں جو گزشتہ چار برسوں سے باغیوں کے قبضے میں تھے۔
حلب کے معاملے پر کیری اور لاوروف میں بات چیت

روسی ملٹری کے مطابق اس کے دستوں نے مشرقی حلب میں قریب چھ ہیکٹر رقبے میں نصب کی گئیں بارودی سُرنگیں صاف کر دی ہیں جس کے باعث اب پانی فراہم کرنے والی دو تنصیبات، دو بجلی گھروں، دو مساجد اور دو اسکولوں کی بحالی کا راستہ ہموار ہو گیا ہے۔

DW.COM

Audios and videos on the topic