1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

آٹھ برس گزر گئے، بے نظیر کا قتل آج بھی ایک معمہ

پاکستان کی سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو 27 دسمبر 2007ء کو راولپنڈی میں ہونے والے ایک دہشت گردانہ حملے میں ہلاک ہو گئی تھیں۔ گزشتہ آٹھ برسوں کے دوران ان کی سیاسی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی اپنی اہمیت اور مقبولیت کھو چکی ہے۔

بے نظیر بھٹو کی سیاسی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی 2008ء سے 2013ء تک وفاق میں حکمران رہی جبکہ اس وقت بھی جنوبی صوبے سندھ میں اس جماعت کی حکمرانی ہے مگر اس تمام عرصے میں بے نظیر کے قتل کے ذمہ داروں تک نہیں پہنچا جا سکا۔ ان کے قتل کی تفتیش اقوام متحدہ کے ایک کمیشن نے بھی کی مگر بے نتیجہ۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے ایک سینیئر رکن تاجدار حیدر اس بات کی تردید کرتے ہیں اپنے دور حکومت نے پیپلز پارٹی کی حکومت نے بے نظیر کے قاتلوں تک پہنچنے کی کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی۔ ڈوئچے ویلے سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا، ’’بے نظیر کے قتل سے ایک بڑے تنازعے نے جنم لیا۔ ہم درست راستے پر رہنا چاہتے تھے اور ہم سائنسی انداز میں اس کی تفتیش چاہتے ہیں۔ پہلے مرحلے میں ہم نے اقوام متحدہ کو اس میں شامل کیا تاکہ نے نظیر کے قتل کے پیچھے کار فرما وسیع سازش کی وجوہات تک پہنچا جا سکے۔‘‘

بے نظیر بھٹو 27 دسمبر 2007ء کو راولپنڈی میں ہونے والے ایک دہشت گردانہ حملے میں ہلاک ہو گئی تھیں

بے نظیر بھٹو 27 دسمبر 2007ء کو راولپنڈی میں ہونے والے ایک دہشت گردانہ حملے میں ہلاک ہو گئی تھیں

سابق دور حکومت میں پاکستان پیپلز پارٹی کے حوالے سے جنم لینے والے کرپشن کے اسکینڈل اور عوامی فلاح و بہبود کے لیے کوئی قابل ذکر پیشرفت نہ ہونے کے سبب 2013ء میں ہونے والے عام انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی کی مقبولیت میں بے پناہ کمی دیکھی گئی اور چاروں صوبوں میں جڑیں رکھنے والی یہ جماعت محض سندھ میں اتحادی حکومت بنانے میں کامیاب ہو سکی۔ پارٹی کی مقبولیت میں کمی کی ذمہ داری بے نظیر کے شوہر اور ملک کے سابق صدر آصف علی زرداری پر بھی عائد کی جاتی ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کی ایک سابق رہنما اور بے نظیر بھٹو کی ایک قریبی ساتھی ناہید خان پیپلز پارٹی کی غیر مقبولیت کا ذمہ دار نئی قیادت کو قرار دیتی ہیں۔ ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا، ’’پیپلز پارٹی کی موجودہ قیادت صرف طاقت کے حصول میں دلچسپی رکھتی ہے۔ یہ پاکستان پیپلز پارٹی کے نظریات کو ترک کر چکی ہے۔‘‘ انہوں نے پیپلز پارٹی کے موجودہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو مشورہ دیا کہ اگر وہ اپنی جماعت کی کھوئی ہوئی مقبولیت واپس چاہتے ہیں تو وہ اپنی والدہ اور اپنے نانا کے نظریات کی طرف لوٹ جائیں اور اپنے والد کے غیر معروف نقش قدم کو چھوڑ دیں۔