1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

آوارہ کتا بھی فارمولان ون کے ٹریک پر

بھارتی دارالحکومت نئی دہلی کے نواح میں فارمولا ون کار ریسنگ کا 5.14 کلومیٹر طویل سرکٹ تیار ہو گیا ہے۔ تاہم جمعےکے روز ہونے والی اولین پریکٹس کو اس وقت روکنا پڑ گیا، جب ایک آوارہ کتا ٹریک پر آ گیا۔

default

فارمولا ون کار ریسنگ ٹریک کو وقت پر مکمل کرنے کی بھارتی حکام کی ایک طویل عرصے کی منصوبہ بندی اور لاکھوں ڈالر کے اخراجات اس وقت دھرے رہ گئے، جب ٹریک پر پہلی مرتبہ کی جانے والی پریکٹس کے دوران ایک کتا آ گیا۔ سیاہ رنگ کے اس کتے کی ٹریک پر آوارگی کی وجہ سے پریکٹس کو پانچ منٹ کے لیے موخرکرنا پڑ گیا۔ بہرحال حکام کی جانب سے اسے فوراً ہی پکڑ لیا گیا، جس کے بعد پریکٹس دوبارہ شروع کی گئی۔

ماہرین کہتے ہیں کہ فارمولان ون ریس کی بھارتی انتظامیہ پہلے ہی دباؤ کا شکار ہے اور اس طرح کے واقعات کی وجہ سے ان کی پریشانی میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ تمام تر حفاظتی انتظامات کے بعد کس طرح ایک کتا ٹریک تک آنے میں کامیاب ہو گیا؟ اور اگر ریس کے دوران ایسا ہوا، تو یہ عالمی سطح پر بدنامی کا باعث بننے کے علاوہ کسی بڑے حادثے کی وجہ بھی بن سکتا ہے۔ اس دوران ایک جانب تو ٹریک پر جھاڑو دیتے ہوئے لوگ دکھائی دیے جبکہ میڈیا سینٹر میں ایک چھوٹی چمگادڑ نے صفائی کے عملے کو پریشان کر دیا۔ کئی گھنٹوں تک یہ چمگادڑ میڈیا سینٹر میں ادھر سے ادھر اڑتی رہی اور عملے کا ایک شخص اس کے پیچھے صفائی کا ڈنڈا اٹھا کر بھاگتا رہا۔

Formel 1 2011 Indien Buddh International Circuit FLASH-GALERIE

فارمولا ون کار ریسنگ 30 اکتوبر کو منقعد ہونے والی ہے

فارمولا ون کار ریسنگ 30 اکتوبر کو منقعد ہونے والی ہے اور ڈرائیورز کی بھارت آمد کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ برطانیہ کے جینسن بٹن نے کہا ہے کہ بھارت ڈرائیورز کے لیے مشکل ثابت ہو گا کیونکہ لگژری ہوٹل تک تو سب کچھ ٹھیک ہے مگر ہوٹل سے باہر کا معیار زندگی دیکھ انہیں دھچکا لگا ہے، ’آپ بھارت میں غربت کی صورتحال کو نظر انداز نہیں کر سکتے، یہاں امیروں اور غریبوں کے درمیان بہت بڑا فرق موجود ہے‘۔ جرمن ڈرائیور سیباستیان فیٹل نے کہا، ’یہ تجربہ بہت سے حوالوں سے آپ کو حقیقت کی دنیا میں واپس لے آئے گا۔ یقیناً اس طرح بہت ساری چیزیں سمجھنے کا موقع ملے گا‘۔

اولمپک مقابلوں میں رکاوٹوں والی ریس کے سابق چیمپئن پی ٹی اوشا نے اکنامکس ٹائمز کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ یہ بہت افسوس کی بات ہے کہ فارمولا ون کے عظیم و شان کھیل کا 99 فیصد بھارتیوں سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ یہ پیسے کا ضیاع ہے، ’پہلے ٹوئنٹی ٹوئنٹی کرکٹ نے بھارت میں کھیل کی صنعت کو نقصان پہنچایا اور اب فارمولان ون سے بھی صرف صنعت کار ہی فائدہ اٹھا رہے ہیں اور یہ لوگ بھارت کے روایتی کھیلوں کے فروغ میں کم ہی سرمایہ کاری کرتے ہیں‘۔

رپورٹ: عدنان اسحاق

ادارت: عاطف بلوچ

DW.COM