1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

وجود زن

آن لائن ہراساں کرنا ایک بڑا جرم، ’خاموش نہ رہیے‘

غیر سرکاری ادارہ ’ڈیجیٹل رائٹس فاؤنڈیشن‘ پاکستان میں بڑھتے سائبر کرائمز کی روک تھام اور ڈیجیٹل حقوق کی آگاہی فراہم کرنے کے لیے کام کر رہا ہے۔اس ادارے کی سربراہ نگہت داد کے ساتھ ڈی ڈبیلو کی خصوصی گفتگو۔

پاکستان میں ڈیجیٹل حقوق کی سرگرم کارکن نگہت داد اس برس پاکستان کی وہ واحد شخصیت ہیں، جنہیں سول آزادی کے شعبے میں خدمات کے نتیجے میں انتہائی معتبر ’اٹلانٹک کونسل ڈیجیٹل فریڈم ایوارڈ‘ سے نوازا گیا ہے۔ پاکستان ہی کی ملالہ یوسف زئی اس سے قبل یہ ایوارڈ حاصل کر چکی ہیں۔ نگہت داد کا شمار پاکستان کے ان چند افراد میں بھی ہوتا ہے، جو ملک میں ڈیجیٹل رائٹس کے حوالے سے کام کر رہے ہیں۔ ڈی ڈبلیو اردو نے نگہت داد سے خصوصی گفتگو کی اور جاننا چاہا کہ آخر پاکستان میں ڈیجیٹل رائٹس پر بات کرنا کیوں ضروری ہے۔

Pakistan Nighat Dad Expretin für Digitale Rechte

ڈیجیٹل رائٹس فاؤنڈیشن کالجوں اور یونیورسٹیوں میں طلبہ کو ڈیجیٹل حقوق کے بارے میں تربیت فراہم کرتی ہے۔

ڈیجیٹل رائٹس آخر ہیں کیا ؟

نگہت داد کہتی ہیں کہ کچھ برس پہلے پاکستانی معاشرے کا وہ طبقہ، جو آزادانہ طور پر اپنی رائے ظاہر نہیں کر پا رہا تھا یا معاشرہ جنہیں بات کرنے کی اجازت نہیں دیتا تھا،اس نے اپنی رائے کو آگے بڑھانے کے لیے انٹرنیٹ کا سہارا لیا۔ یہ وہ ذریعہ ہے، جہاں کھل کر بات کی جاسکتی تھی لیکن ان افراد کی آن لائن سرگرمیوں اور ان کے خیالات کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ نگہت کہتی ہیں، ’’خواتین، اقلیتوں اور خواجہ سراؤں کو آن لائن ہراساں کیے جانے کے واقعات میں تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آرہا تھا اور ملک میں ان کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے کچھ نہیں تھا، تب ہم نے ’ڈیجیٹل رائٹس فاؤنڈیشن‘ قائم کی‘‘۔ نگہت کہتی ہیں کہ یہ ان کے لیے ایک بہت بڑا چینلج تھا کہ یہ ثابت کیا جائے کہ خواتین کو آن لائن ہراساں کرنا، ان کی تصاویر حاصل کر کے انہیں بلیک میل کرنا اور آن لائن ان کا پیچھا کرنا ایک جرم ہے۔

نگہت کا کہنا ہے کہ جس طرح کسی بھی پاکستانی کے شہری حقوق ہیں بالکل اسی طرح ملک میں انڑنیٹ صارفین کے بھی ڈیجیٹل حقوق ہیں لیکن لوگ ان سے آگاہ نہیں ہے۔ نگہت کہتی ہیں،’’ہم ملک بھر کے کالجوں اور یونیورسٹیوں میں جا کر یہ بتاتے ہیں کہ آن لائن ہراساں ہونے سے بچنے کے لیے ضروری نہیں کہ آپ فیس بک اکاؤنٹ نہ بنائیں یا ٹیکنالوجی کا استعمال نہ کریں۔‘‘ نگہت کہتی ہیں کہ اگر کسی کو بھی آن لائن تنگ کیا جا رہا ہے یا ڈرایا دھمکایا جا رہا ہے تو وہ ان کے ادارے سے رابطہ کر سکتا ہے اور ملک میں قائم سائبر کرائم ونگ کو بھی شکایت درج کرائی جا سکتی ہے۔

Pakistan Nighat Daad Freedom Award

پاکستان میں زیادہ تر خواتین ہی انتظامیہ اور سرکاری اداروں پر زور ڈال کر ڈیجیٹل رائٹس کے لیے بات کر رہی ہیں

انتہائی خوفناک واقعات ؟

نگہت داد کا کہنا ہے کہ ہر ماہ ان کے ادارے کو 30 سے 40 شکایات موصول ہوتی ہیں اور وہ ایک ہاٹ لائن قائم کر نے پر کام کر رہی ہیں، جس پر لوگ اپنی شکایتیں درج کرا سکیں گے۔

ایک واقعے کا ذکر کرتے ہوئے نگہت بتاتی ہیں، ’’پشاور میں دو افراد کالج کی لڑکیوں کی تصاویر کو فیس بک کے ایک پیج پر ڈال کر لڑکیوں کو بلیک میل کر رہے تھے۔ اس فیس بک پیج کے کئی ہزار فولورز تھے۔ اس باعث بہت سی لڑکیوں کے گھر والے ان سے بد زن ہوگئے اور کئی کی تو تعلیم بھی چھڑوا دی گئی۔ نگہت کو جب اس حوالے سے شکایت موصول ہوئی تو انہوں نے فیس بک کے ساتھ مذاکرات کرنے کے بعد اس پیج کو بند کراوا دیا۔ نگہت بتاتی ہیں کہ چند لڑکیوں نے ایف آئی اے کو بھی شکایت درج کرائی اور اس فیس بک پیج کو چلانے والے دو افراد کو سزا ہوئی اور انہیں جیل جانا پڑا۔

Pakistan Nighat Dad Expretin für Digitale Rechte

ملک میں قائم سائبر کرائم ونگ کو بھی شکایت درج کرائی جا سکتی ہے

لڑکیاں ٹیکنالوجی سے کیوں دور ؟

عام تاثر ہے کہ خواتین کم ہی ٹیکنالوجی کے شعبے کو بطور پروفیشن اختیار کرتی ہیں۔ اس حوالے سے ڈیجیٹل رائٹس فاؤنڈیشن بھی کام کررہی ہے اور کوشش کی جارہی ہے کہ خواتین کی موجودگی کو اس شعبے میں بڑھایا جائے۔ نگہت کہتی ہیں، ’’یہ مسئلہ صرف پاکستان کا نہیں بلکہ پوری دنیا میں عام طور پر ایسے شعبوں میں لڑکیوں کی نمائندگی کم ہی نظر آتی ہے۔ یہ ہمارے رویوں کی غلطی ہے۔‘‘ مثبت بات یہ ہے کہ پاکستان میں زیادہ تر خواتین ہی انتظامیہ اور سرکاری اداروں پر زور ڈال کر ڈیجیٹل رائٹس کے لیے بات کر رہی ہیں۔ نگہت داد، صدف خان اور فریحہ عزیز کا نام ان خواتین میں آتا ہے، جنہوں نے پاکستان کی قومی اسمبلی اور سینیٹ میں پیش ہونے والے سائبر کرائم کے متنازعہ بل کی کئی شقوں پر شدید تنقید کی تھی اور ان ہی کی کاوشوں کے باعث پاکستان کی سینیٹ نے اس بل پر عوامی اور مختلف اسٹیک ہولڈرز کی رائے لینے کا فیصلہ کیا تھا۔

DW.COM