1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

آن لائن نفرت انگیزی پر بھاری جرمانہ عائد کیا جائے گا، جرمن وزیر

جرمن کابینہ نے اس مسودہ قانون کی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت انٹرنیٹ کمپنیوں کو پابند بنایا گیا ہے کہ وہ نفرت انگیزی پر مبنی مواد کو ڈیلیٹ کریں، بہ صورت دیگر ان پر جرمانہ عائد کیا جائے گا۔

جرمن وزیر انصاف ہائیکو ماس نے آن لائن نفرت انگیزی کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے قانون سازی کی تجویز دی تھی، جس کے تحت اسے ایک قابل تعزیر جرم قرار دیا گیا ہے۔ اس قانون کے تحت ایسی انٹرنیٹ کمپنیاں جو مجرمانہ مواد ہٹانے میں ناکام رہیں گی، ان پر جرمانہ عائد کیا جا سکے گا۔

چانسلر انگیلا میرکل کی کابینہ نے بدھ پانچ اپریل کو اس قانونی مسودے کی منظوری دے دی ہے، جس میں سوشل میڈیا ویب سائٹس فیس بک اور ٹوئٹر کو نفرت انگیز مواد ڈیلیٹ کرنے کا پابند بنایا گیا ہے، بہ صورت دیگر ان ان پر جرمانہ عائد کیا جا سکے گا۔ اس قانون پر چوں کہ وسیع تر حکومتی اتحاد میں شامل جرمنی کی بڑی جماعتیں متفق ہیں، اس لیے قانون کی پارلیمانی منظوری کی راہ میں کوئی رکاوٹ دکھائی نہیں دیتی۔

ہائیکو ماس نے اس قانونی مسودے کو کابینہ سے منظوری کے لیے پیش کرنے سے قبل خبردار کیا تھا کہ ایسی انٹرنیٹ کمپنیاں جو نفرت انگیز اور مجرمانہ مواد ڈیلیٹ کرنے میں ناکام رہیں گی، انہیں پچاس ملین یورو تک کے جرمانے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

Berlin Heiko Maas Bundesjustizminister Kabinettssitzung (Getty Images/AFP/O. Andersen)

ہائیکو ماس کے مطابق اس قانون کے تحت انٹرنیٹ کمپنیوں پر جرمانہ عائد کیا جا سکے گا

جرمن نشریاتی ادارے اے آر ڈی کے صبح کے پروگرام ’’مورگن میگزین‘‘ میں ان کا کہنا تھا، ’’ہم جرمنی میں ایسی کمپنیاں قبول نہیں کریں گے، جو قانون کی بالادستی تسلیم نہیں کرتیں۔ اس لیے مستقبل میں، اگر بہتری نہ آئی، تو ہم ایسی انٹرنیٹ کمپنیوں کے خلاف بھاری جرمانے عائد کر سکیں گے۔‘‘

جرمن وزارت انصاف کی جانب سے کرائے گئے ایک حالیہ سروے میں بتایا گیا تھا کہ ٹوئٹر کسی قسم کا مجرمانہ مواد ڈیلیٹ نہیں کرتا، جب کہ فیس بک بھی ایسے مواد کا محض پچاس فیصد ہی ڈیلیٹ کرتا ہے اور یوٹیوب سے ہٹائے جانے والے مواد کا تناسب نوے فیصد ہے۔

ماس کے اس بیان پر گرین پارٹی سے تعلق رکھنے والے قانونی امور کے ماہر ریناٹے کیوناسٹ نے سخت تنقید کرتے ہوئے اسے آزادی اظہار رائے پر قدغن لگانے سے تعبیر کیا ہے۔ اے آر ڈی کے اسی پروگرام میں ان کا کہنا تھا، ’’مجھے خدشہ ہے اور دیگر افراد کو بھی یہ خدشہ ہو گا کہ کیا صرف یہی بات ہے جو ماس نے بتائی ہے، یا یہ اس سے بڑھ کر آزادی اظہارِ رائے کو محدود کرنے تک جا سکتی ہے۔ کیوں کہ اس قانون کے بعد تو ہو سکتا ہے کہ کہا جائے یہ بھی ڈیلیٹ کر دیں، یہ بھی ڈیلیٹ کر دیں اور یہ بھی۔‘‘