1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

آنگ سان سوچی، نظر بندی ختم مگرزیرحراست

میانمارمیں تبدیلی صرف اسی وقت آ سکتی ہے کہ جب آنگ سان سوچی ایک آزاد شہری کے طور پرعدالت سے باہر آئیں۔ لیکن مستقبل قریب میں اس کی امید بہت کم نظر آ رہی ہے۔ Sybille Golte-Schröder کا تبصرہ:

default

سوچی پرالزام ہے کہ انہوں نے نظربندی کے ضابطوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایک امریکی باشندے سے ملاقات کی تھی

میانمار کے دارالحکومت ینگون سے منگل کے روز ایک متنازعہ خبر ملی کہ نوبل انعام یافتہ سیاستدان اور ملکی اپوزیشن لیڈر آنگ سان سوچی کی نظربندی ختم کر دی گئی ہے لیکن وہ زیرحراست رہیں گی۔ اس خبرکے پیچھے کونسے عوامل کارفرما ہیں؟

میانمارمیں فوجی حکومت کی جانب سے آنگ سان سوچی کی کئی برسوں پرمحیط نظربندی ختم کئے جانے کی خبرنے یکدم ساری توجہ اپنی طرف کھینچ لی۔ کیا فوجی حکمرانوں کویہ خیال آ گیا کہ ان کا یہ فیصلہ غلط تھا۔ یا پھریہ ان کی کوئی نئی چال ہے؟ زیادہ ترماہرین اسے ایک چال سے ہی تعبیر کر رہے ہیں۔

آنگ سان سوچی کی نظربندی ختم ہونے سے چند دن قبل ان پرمن گھڑت الزامات عائد کرکے انہیں جیل بھیج دیا گیا۔ ان پرالزام ہے کہ انہوں نے اپنی نظربندی کے ضابطوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایک امریکی باشندے سے ملاقات کی تھی۔

اس عمل کو قابل سزا سمجھنے کے لئے ، میانمار کے جرنلیوں کی منطق کو سمجھنا لازمی ہو گا۔ آج کے میانمار میں "قانون" کے لفظ کا ایسے کسی واقعے سے کوئی تعلق نہیں ہے جو کہ کسی عدالت میں پیش آتا ہو یا آ رہا ہو۔ میانمار ایک ایسی ریاست ہے جہاں نا انصافی پائی جاتی ہے۔ اس کی سب سے بڑی مثال سوچی کے ساتھ فوجی حکمرانوں کا وہ رویہ ہے جو کئی سالوں سے نہ صرف ایک باقاعدہ اسکینڈل بن چکا ہے بلکہ مسلسل نا انصافی سے عبارت ہے۔

امن کا نوبل انعام حاصل کرنے والی سوچی کی گرفتاری پربہت شدید عالمی ردعمل سامنے آیا اوراس کی توقع بھی کی جا رہی تھی۔ اسی دوران ہنوئے میں ہونے والے ایشیائی یورپی سربراہی اجلاس کے موقع پر بھی میانمار کے فوجی حکمرانوں کو اس ردعمل کا سامنا کرنا پڑا۔

27 مئی کا دن میانمارکے عوام کے لئے تاریخی حیثیت کا حامل ہے، کیونکہ 19 برس قبل آج ہی کے دن آنگ سان سوچی کی جماعت نے انتخابات میں کامیابی حاصل کی تھی۔ جمہوریت کی اس کامیابی کو فوجی حکمرانوں نے طاقت کا استعمال کرتے ہوئے فوری طور پر اپنے پیروں تلے روند ڈالا تھا۔

نظربندی ختم کئے جانے کے باوجود بھی نوبل انعام یافتہ سوچی کواپنے خلاف عدالتی کارروائی کا سامنا ہے۔ ان کی گرفتاری کے خلاف جب عالمی ردعمل کی شدت کم ہو جائے گی، 27 مئی کا تاریخی دن گزرجائے گا، تو سوچی کے ساتھ ایک مرتبہ پھر ناانصافی کئے جانے کا امکان ہے، ہوسکتا ہے انہیں دوبارہ نظر بند کر دیا جائے یا پھر سزائے قید بھی سنا دی جائے۔

اگر فوجی حکمرانوں کی منطق کو دیکھا جائے تو وہ جمہوریت کی جانب اٹھنے والے ہرقدم کو اپنی بقاء کے لئے خطرہ سمجھتے ہیں۔ انہیں خوف ہے کہ جمہوری میانمارمیں ان کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی جاسکتی ہے۔ میانمارمیں تبدیلی صرف اسی وقت آ سکتی ہے کہ جب آنگ سان سوچی ایک آزاد شہری کے طور پرعدالت سے باہر آئیں۔ لیکن مستقبل قریب میں اس کی امید بہت کم نظر آ رہی ہے۔