1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

آنکھ کے اشاروں سے چلنے والی کار اب ایک حقیقت

دُنیا بھر میں سائنسدان اور محققین ایسی اختراعات میں مصروف ہیں، جن کی مدد سے موٹر گاڑیاں ڈرائیور کے بغیر چلائی جا سکیں۔ نومبر سن 2007ء میں امریکی شہر کیلی فورنیا میں ایسی موٹرگاڑیوں کی پہلی ریس بھی منعقد ہو چکی ہے۔

default

حال ہی میں جرمن دارالحکومت برلن کی فری یونیورسٹی کے ایک ورکنگ گروپ نے اِسی طرح کی ایک کار تیار کی ہے، جس پر تقریباً ایک لاکھ پچاس ہزار یورو لاگت آئی ہے۔ آنکھ کے اشاروں سے چلنے والی اِس کار کو ’’سپرٹ آف برلن‘‘ کا نام دیا گیا ہے۔ اِس ورکنگ گروپ کی سربراہی کمپیوٹر سائنس کے ماہر راؤل روخاس کر رہے ہیں۔

جمعہ 23 اپریل کو روخاس اور ان کے ایک ساتھی نے برلن کے سابقہ ہوائی اڈے ٹیمپلز ہوف میں کھلی جگہ پر اِس کار کو چلانے کا مظاہرہ کیا۔ اِس موقع پر ڈرائیور کی جگہ پر بیٹھے روخاس نے اپنے دونوں ہاتھ کچھ یوں فضا میں بلند کر رکھے تھے، گویا کسی نے اُس کی کمر کے ساتھ پستول لگا رکھا ہو اور اُسے ’’ہینڈز اَپ‘‘ رہنے کے لئے کہا ہو۔ مقصد یہ دکھانا تھا کہ کار ہاتھوں سے نہیں بلکہ واقعی آنکھ کے اشاروں سے چل رہی ہے۔

Flash-Galerie Norman Foster Bibliothek Freie Universität Berlin

جرمن دارالحکومت برلن کی Freie یونیورسٹی

ڈرائیور نے محض سائیکل سواروں کے استعمال میں آنے والا ایک ہیلمٹ پہن رکھا تھا، جس پر ایک کیمرہ نصب تھا۔ یہ کیمرہ آنکھوں کی حرکات کو ریکارڈ کرتا ہے اور تمام تر تفصیلات آگے ایک کمپیوٹر تک پہنچاتا ہے۔ یہ کمیپوٹر خود کو ملنے والی معلومات کو ایسے سگنلز میں تبدیل کرتا ہے، جن سے گاڑی کو چلایا اور ہر طرح سے کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔

اِس کار کو عام سڑکوں پر چلانے کی اجازت نہیں ہے۔ ویسے بھی آنکھیں مخصوص طریقے سے جھپک کر کار کو ڈرائیو کرنا تکنیکی اعتبار سے کتنا ہی ہنگامہ خیز کیوں نہ ہو، اِس کے فائدے ابھی بہت ہی محدود ہیں۔ یہ ساری تحقیق دراصل انسان کے اُس خواب کی جانب پیشرفت کے لئے ہے، جس میں ایک روز گاڑیاں بغیر ڈرائیور کے سڑکوں پر سفر کر سکیں گی۔

اِس تحقیق میں سٹینفورڈ یا پھر کارنیگی میلن جیسی امریکی یونیورسٹیاں آگے ہیں لیکن برلن کی فری یونیورسٹی کے محققین کا کہنا ہے کہ اُن کی یونیورسٹی بھی اِس شعبے میں ہونے والی تحقیق میں پیچھے نہیں ہے۔ نومبر سن2007ء میں کیلی فورنیا میں بغیر ڈرائیور کے چلنے والی کاروں کی پہلی ریس میں برلن کی یہ ٹیم بھی شامل تھی۔ تب سے فری یونیورسٹی کی ٹیم نے اپنی کار میں استعمال ہونے والی ٹیکنالوجی کو بہتر بنایا ہے اور اب گاڑی زیادہ اچھے طریقے سے کنٹرول بھی ہو سکتی ہے اور رکاوٹوں کا بھی بہتر طور پر اندازہ لگا سکتی ہے۔

Verkehr Verkehrschaos in Jakarta Indonesien Thamrin Street

محققین کے خیال میں ابھی مزید بیس تیس سال تک اِس ٹیکنالوجی کو مزید بہتر بنائے جانے کی ضرورت ہے۔ تب ہی کہیں جا کر یہ ٹیکنالوجی اتنی پختہ ہو سکے گی کہ بغیر ڈرائیور کے کاروں کو سڑکوں پر آنے کی اجازت دی جائے۔

روخاس، جو بنیادی طور پر میکسیکو سے تعلق رکھتے ہیں اور ستائیس برس پہلے تعلیم ہی کے سلسلے میں جرمنی آئے تھے، یہ سمجھتے ہیں کہ ٹیکنالوجی کو مزید بہتر بنایا جائے تو ایک دن ضرور ایسا آئے گا، جب کمپیوٹر انسانوں کے مقابلے میں زیادہ حفاظت اور احتیاط کے ساتھ ڈرائیونگ کر سکیں گے۔ اُن کے خیال میں اب سے ایک سو سال بعد سڑکوں پر محض کمپیوٹرز کی مدد سے چلائی جانے والی کاریں سفر کیا کریں گی۔ انسان کار میں بیٹھ کر اپنی منزل کا نام ٹائپ کر دیا کریں گے اور پھر آرام سے ٹیک لگا کر اپنے سفر کا مزہ لیں گے۔

امریکہ میں اسلحہ سازی کی صنعت اِس ٹیکنالوجی میں زبردست دلچسپی لے رہی ہے اور اِس شعبے میں ہونے والی تحقیق کی مالی معاونت بھی کر رہی ہے۔

رپورٹ : امجد علی

ادارت : شادی خان سیف

DW.COM