1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

آنکھوں سے کنٹرول ہونے والا لیپ ٹاپ

آنکھوں کی طاقت سے کنٹرول ہونے والا دنیا کا پہلا لیپ ٹاپ تیار کر لیا گیا ہے۔ آپ نے گانے سننا ہوں، فائلز اوپن کرنی ہوں یا پھر تصویریں دیکھنی ہوں۔ اب آپ ایک آنکھ کے اشارے سے یہ سب کچھ کر سکتے ہیں۔

default

جرمن شہر ہینوور میں انفارمیشن ٹیکنالوجی سے متعلق دنیا کی سب سے بڑی سالانہ نمائش CeBiT میں سب کی توجہ کا مرکز ایک ایسا لیپ ٹاپ بنا ہوا ہے، جسے آنکھوں کی مدد سے کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔ اس غیر معمولی لیپ ٹاپ میں ’آئی ٹریکنگ‘ سسٹم کا استعمال کیا گیا ہے، جس کی مدد سے انسان کوئی بھی فائل اوپن کرسکتا ہے۔ جس سمت میں نظر حرکت کرتی ہے، کرسر بھی اسی طرف حرکت کرتا ہے۔ یہ لیپ ٹاپ ایک سوئس کمپنی Tobii کی طرف سے متعارف کروایا گیا ہے۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ لیپ ٹاپ انتہائی ماحول دوست ہے اور اس سے بجلی کی بچت کی جا سکتی ہے۔ اگر اپ کی نظر کچھ دیر تک لیپ ٹاپ سکرین پر نہیں رہتی تو یہ خودکار طریقے سے سکرین سیور موڈ پر چلا جاتا ہے اور جونہی دوبارہ سکرین پر دیکھا جائے گا تو یہ کمپیوٹر ری اسٹارٹ ہو جائے گا۔ ٹوبی کمپنی سے وابستہ آندرس اولسن کا کہنا ہے، ’’یہ یقینی طور پر مستقبل کا کامیاب ترین کمپیوٹر ہوگا۔ اس کمپیوٹر پر وہ تمام کام سرانجام دیے جا سکتے ہیں، جو ہم ایک عام کمپیوٹر کرتے ہیں۔‘‘ ان کا مزید کہنا ہے، ’’ ہم گزشتہ کئی عشروں سے ’کی بورڈ‘ اور ’ماؤس‘ کا استعمال کرتے آ رہے ہیں۔ اب وقت ہے کہ ہم آگے کی طرف ترقی کریں اور ’آئی کنٹرول‘ ٹیکنالوجی اس کا بہترین حل ہے۔‘‘

Facebook Frau Laptop Brille

اگر اپ کی نظر کچھ دیر تک لیپ ٹاپ سکرین پر نہیں رہتی تو یہ خودکار طریقے سے سکرین سیور موڈ پر چلا جاتا ہے

آئی کنٹرول ٹیکنالوجی کا کئی دوسرے شعبوں کے علاوہ گاڑیوں میں بھی استعمال کیا جا رہا ہے۔ جونہی اونگھ آنے کی وجہ سے ڈرائیور کی آنکھیں بند ہوتی ہیں، تو ایک اونچی آواز میں الارم بجنا شروع ہو جاتا ہے اور ڈرائیور جاگ جاتا ہے۔ اس کے علاوہ اس ٹیکنالوجی کا استعمال معذور افراد کے لیے بھی کیا جاتا ہے۔ تاہم ایسا پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ اس ٹیکنالوجی کا استعمال لیپ ٹاپ کے لیے کیا گیا ہے۔

آندرس اولسن کا کہنا ہے کہ ابھی اس ٹیکنالوجی کو مزید ترقی دی جاری ہے اور جلد ہی یہ کمپیوٹر ایک عام صارف کے لیے مارکیٹ میں دستیاب ہو گا۔

ہینور میں ہونے والی اس نمائش میں جہاں اہم حساس اور جدید نوعیت کی نت نئی ٹیکنالوجی متعارف کروائی جارہی ہے وہی اس میں گھریلو صارفین کے لیے بھی بہت کچھ ہے۔ اس کی ایک مثال وہ نیا سافٹ ویئر ہے، جو کسی کے چہرے کی خدوخال کو تھری ڈی انداز میں پرکھ کر میک اپ کے لیے بہترین مشورہ دے سکتا ہے۔

CeBIT میں اس سال دنیا کے ستر ممالک سے چار ہزار سے زائد کمپنیوں نے شرکت کی ہے۔ ان میں Google, IBM, SAP, Microsoft, HP, Dell جیسے بڑے نام شامل ہیں۔ ابھی تک اس نمائش میں تین لاکھ پچاس ہزار سے زائد افراد شرکت کر چکے ہیں۔

رپورٹ: امتیاز احمد

ادارت: عابد حسین

DW.COM

ویب لنکس

ملتے جلتے مندرجات