1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

آلودگی کے کنٹرول میں ’فراڈ‘، امریکا کا فوکس ویگن پر الزام

امریکی ریگولیٹرز نے جرمن کار ساز ادارے فوکس ویگن پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے ایک سوفٹ ویئرز کے ذریعے کاروں سے خارج ہونے والی آلودگی کے اخراج کو چھپانے کی کوشش کی ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی نے بتایا ہے کہ امریکی ریگولیٹرز نے کہا ہے کہ فوکس ویگن کی کچھ کاروں میں Defeat Device نامی ایسے سوفٹ ویئرز نصب ہیں، جو لیبارٹری ٹیسٹ کے وقت ان کاروں سے خارج ہونے والی آلودگی کی مقدار کو کم کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں یہ کاریں جب سڑکوں پر اترتی ہیں تو یہ مروجہ حکومتی معیارات سے چالیس فیصد زائد تک آلودگی خارج کرتی ہیں، جس سے ماحول آلودہ ہوتا ہے۔

امریکا میں تحفظ ماحولیات کی ایجسنی (ای اے پی) ’کلین ایئر ایکٹ‘ کی خلاف ورزی اور گاڑیوں سے خارج ہونے والی آلودگی کے حوالے سے انتہائی سخت اقدامات کر رہی ہے۔ جرمن کار ساز ادارے فوکس ویگن کی ان گاڑیوں کے خلاف بھی اسی ایکٹ کے تحت کارروائی کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

امریکی منڈی سے پانچ لاکھ کاروں کو واپس بلوانے کے نتیجے میں فوکس ویگن کو تقریبا اٹھارہ ملین ڈالر کا نقصان ہو سکتا ہے۔ ای اے پی کی اعلیٰ اہلکار کرسٹینا جائلز نے کہا ہے، ’’کاروں میں نصب اس طرح کے سوفٹ ویئرز کے ذریعے صاف فضا کے معیارات کو نظر انداز کرنا نہ صرف غیر قانونی ہے بلکہ یہ عوام کی صحت کے لیے بھی نقصان دہ ہے۔‘‘

گزشتہ برس دسمبر میں فوکس ویگن نے رضا کارانہ طور پر تقریبا پانچ لاکھ کاروں کو امریکی مارکیٹ سے اٹھانے کا عمل اس وقت شروع کیا تھا، جب امریکی حکام نے ان گاڑیوں سے خارج ہونے والی اضافی آلودگی کا جانچنے کے لیے تحقیقات شروع کی تھیں۔ اُس وقت ای پی اے نے فوکس ویگن کو خبردار کیا تھا کہ اگر کاروں سے خارج ہونے والی اس اضافی آلودگی کی وجوہات بیان نہیں کی جاتی تو سال 2016 کے ماڈلز کو امریکا میں فروخت کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

Volkswagen-Zentrale in Wolfsburg

فولکس ویگن اس معاملے پر امریکی حکام کے ساتھ تعاون کر رہا ہے

ای پی اے کے مطابق اس پیشرفت کے بعد اس جرمن کار ساز ادارے اعتراف کیا تھا کہ کچھ گاڑیوں میں Defeat Device نامی سوفٹ ویئر نصب ہے۔ امریکی حکام نے کہا ہے کہ وہ اس کیس کی تحقیقات جاری رکھیں گے۔ کیلی فورنیا ایئر ریسورس بورڈ کے اعلیٰ اہلکار رچرڈ کورَے نے کہا ہے کہ ان کی کوشش ہو گی کہ متاثرہ کاروں میں موجود تیکنیکی مسائل کو حل کیا جائے اور فوکس ویگن کے خلاف مناسب قانونی ایکشن لیا جائے۔

فوکس ویگن کی طرف سے بتایا گیا ہے کہ وہ اس معاملے پر امریکی حکام کے ساتھ تعاون کر رہا ہے۔ فوکس ویگن نے جن گاڑیوں میں یہ سوفٹ ویئر نصب کیا ہے، وہ ڈیزل گاڑیاں ہیں۔ مجموعی طور پر چار لاکھ بیاسی ہزار کاروں میں اس سوفٹ ویئر کے ہونے کی اطلاعات ہیں، جن میں جیٹا، 2009ء تا 2015ء کے گولف کے ماڈل اور آوڈی اے تھری کے ماڈلز بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ امریکی کارروائی سے 2014ء اور 2015ء کے پساٹ ماڈل بھی اثر انداز ہوں گے۔

ملتے جلتے مندرجات