1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

’آلمانیہ، ویلکم ان جرمنی‘: برلینالے میں کامیاب نمائش

جرمن دارالحکومت برلن میں جاری برلینالے فلم فیسٹیول کے دوران ہفتہ کی شام اس مشترکہ ترک جرمن کامیڈی پروڈکشن کی اولین نمائش کی گئی، جسے ’آلمانیہ، ویلکم ان جرمنی‘ کا نام دیا گیا ہے۔

default

ترک نژاد جرمن بہنیں یاسمین اور نسرین

اس فلم کی نمائش کے دوران، جو گولڈن اور سلور بیئر کے اعلیٰ ترین انعامات کے لیے مقابلے کی دوڑ میں شامل نہیں ہے، مہمانوں کی طرف سے بار بار تالیاں بجا کر اس پروڈکشن کے لیے پسندیدگی کا اظہار کیا گیا جبکہ فلم کے اختتام پر بھی ہال میں دیر تک تالیوں کی گونج سنائی دیتی رہی۔

’آلمانیہ، ویلکم ان جرمنی‘ ایک ایسے ترک والد کی کہانی ہے، جو 1964ء میں ایک مہمان کارکن کے طور پر جرمنی آیا تھا اور اس کے بعد اس کے اہل خانہ بھی ترکی سے آ کر یہاں جرمنی میں رہائش پذیر ہو گئے تھے۔

برلن میں مارلینے ڈیٹرش پلیس کے ایک جدید ترین سینما گھر میں اس فلم کے پریمیئر شو کو دیکھنے کے لیے آنے والوں میں وفاقی جرمن صدر کرسٹیان وولف اور ان کی اہلیہ بھی شامل تھے۔ ان دونوں خاص مہمانوں کا استقبال برلینالے کے سربراہ ڈیٹر کوشلک نے ذاتی طور پر کیا۔

Christian Bettina Wulff Flash-Galerie

جرمن صدر کرسٹیان وولف اور ان کی اہلیہ

یہ کمرشل فلم جرمن سینما گھروں میں دس مارچ سے نمائش کے لیے پیش کر دی جائے گی۔ اس فلم کے لیے ہدایت کاری دو ترک نژاد جرمن بہنوں نے کی ہے، جن کے نام یاسمین اور نسرین سامدیریلی ہیں۔ اکثر بڑے مزاحیہ لیکن کبھی کبھی بڑے افسردہ کر دینے والے مناظر اس فلم کی خاص بات ہیں، جس میں ترکی سے آنے والے ایک مہمان کارکن کے خاندان کی کئی عشروں پر محیط داستان بیان کی گئی ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ فلم بنانے والی دونوں ترک نژاد جرمن بہنیں پیدائشی طور پر جرمن شہر ڈورٹمنڈ سے تعلق رکھتی ہیں اور وہ ایک ایسے ترک جوڑے کی پوتیاں ہیں، جو خود بھی عشروں پہلے مہمان کارکنوں کے طور پر ترکی سے جرمنی آیا تھا۔

یاسمین اور نسرین نے اپنی اس فلم کے بارے میں جرمن خبر ایجنسی ڈی پی اے کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا کہ اس فلم کے ذریعے انہوں نے جرمن معاشرے میں رہنے والے افراد میں پائی جانی والی اس ثقافتی تفریق کو پیش کرنے کی کوشش کی ہے، جسے بہرحال ’ثفاقتی تنوع میں اضافے کو یقینی بنانے والے عوامل میں سے ایک‘ کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔

نسرین سامدیریلی نے اس انٹرویو میں کہا، ’لوگوں کو ایک دوسرے کے ساتھ مل کر ایک دوسرے پر ہنسنا چاہیے، چاہے وہ مقامی جرمن باشندے ہوں یا ترک نژاد جرمن شہری۔ اس لیے کہ یہ سارے ہیں تو انسان ہی، میری اور آپ کی طرح کے انسان۔‘

رپورٹ: مقبول ملک

ادارت: عاطف بلوچ

DW.COM