1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

آفریدی نے فیصلہ بدل ڈالا

پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان شاہد آفریدی نے دورہ ویسٹ انڈیز کے لیے اپنی دستیابی ظاہر کر دی ہے۔ قبل ازیں انہوں نے اعلان کیا تھا کہ وہ اس دورے میں ٹیم کے ساتھ نہیں ہوں گے۔

default

شاہد آفریدی

خبررساں ادارے روئٹرز نے ایک پاکستانی ٹیلی وژن چینل کے حوالے سے بتایا کہ آفریدی نے ٹیم کے ساتھ ویسٹ انڈیز نہ جانے کا ارادہ بدل دیا ہے۔ انہوں نے کہا، ’قبل ازیں میں نے فیصلہ کیا تھا کہ وہاں نہیں جاؤں گا، کیونکہ مجھے آرام کی ضرورت تھی۔ تاہم بعض سابق کھلاڑیوں، خاندان کے افراد اور دوستوں نے مجھے مشورہ دیا کہ پاکستان کرکٹ کے لیے اس اہم وقت پر کھیل کے لیے دستیاب رہوں۔’

اکتیس سالہ شاہد آفریدی 350 وَن ڈے میچ کھیل چکے ہیں۔ انہوں نے حالیہ کرکٹ ورلڈ کپ میں اپنی ٹیم کی قیادت کی۔ پاکستان کرکٹ ٹیم سیمی فائنل تک پہنچی، جس میں بھارت نے اسے ہرایا۔ تاہم پاکستانی ٹیم توقعات کے برعکس اپنے گروپ کی سرفہرست ٹیم رہی۔

آل راؤنڈر شاہد آفریدی اس ٹورنامنٹ میں اکیس وکٹیں حاصل کرکے ورلڈ کپ 2011ء کے سب سے زیادہ وکٹیں حاصل کرنے والے باؤلر ہیں۔ بھارتی کھلاڑی ظہیر خان نے بھی 21 ہی وکٹیں حاصل کیں تاہم انہوں نے آفریدی کے برعکس آٹھ کی بجائے نو میچوں میں اس تعداد تک پہنچ پائے۔ شاہد خان آفریدی کا کہنا ہے کہ دورہ ویسٹ انڈیز دو یا تین نئے کھلاڑیوں کو آگے لانے کے لیے آئیڈیل ہو گا۔

انہوں نے کہا، ’یہی وجہ ہے کہ میں آئندہ دورے میں ٹیم کا حصہ بننا چاہوں گا تاکہ ورلڈ کپ کے دوران ٹیم کو جو تحریک ملی وہ جاری رہے۔’

Shahid Afridi

شاہد آفریدی نے ورلڈ کپ کے دوران اکیس وکٹیں حاصل کیں

آفریدی نے کہا کہ ورلڈ کپ میچز کھیلنے کے بعد وطن واپسی پر ٹیم کا پرتپاک استقبال کیا گیا، جس سے کھلاڑیوں کے حوصلے بلند ہوئے۔ انہوں نے کہا، ’اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان کرکٹ درست سمت میں گامزن ہے۔ ویسٹ انڈیز اور زمبابوے کے دوروں سے ہم بہترین وَن ڈے ٹیم بنا سکیں گے۔’

پاکستانی ٹیم ویسٹ انڈیز میں میزبان ٹیم کے ساتھ اکیس اپریل کو ایک ٹوئنٹی ٹوئنٹی میچ کھیلے گی۔ بعدمیں پانچ وَن ڈے اور دو ٹیسٹ میچ کھیلے جائیں گے۔

روئٹرز کے مطابق سلیکٹرز کی جانب سے اس بات کے اشارے ملے ہیں کہ ویسٹ انڈیز میں وَن ڈے میچز کے دوران بعض سینئر کھلاڑیوں کو بریک دیا جا سکتا ہے۔ ان کے بجائے ڈومیسٹک کرکٹ میں اچھی کارکردگی دکھانے والے کھلاڑیوں کو موقع دیا جا سکتا ہے۔

رپورٹ: ندیم گِل

ادارت: افسر اعوان

DW.COM

ویب لنکس