1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

آصف علی زرداری کا بطور صدرِ پاکستان انتخاب اور عالمی ردعمل

پاکستان میں چھ ستمبر کے صدارتی الیکشن میں پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئر پرسن کو ملک کے الیکٹورل کالج نے نیا صدر منتخب کر لیا ہے۔

default

پاکستان کے نئے صدر آصف علی زرداری

پاکستان میں صدارتی انتخابی عمل گزشتہ روز مکمل ہو گیا ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار آصف علی زرداری بھاری اکثریت کے ساتھ ملک کے نئے صدر بن گئے ہیں۔ سن اُنیس سو چھپن کے بعد وہ پاکستان کے گیاارہویں صدر ہیں۔ زرداری سے قبل میجر جنرل سکندر مرزا، فیلڈ مارشل محمد ایوب خان، جنرل محمد یحیٰ خان ، ذوالفقارعلی بھٹو، فضل الہی چوہدری ،جنرل محمد ضیا اُلحق ، غلام اسحٰق خان ، سردار فاروق احمد لغاری ، جسٹس ریٹائرڈ محمد رفیق تارڑ ، جنرل پرویز مشرف منصب صدارت پر براجمان رہ چکے ہیں۔ اِس کامیابی پر اُن کو اندرون ملک اور بیرون ملک سے مبارک باد کے پیغامات روانہ کرنے کا سلسلہ شروع ہے۔

Außenminister David Miliband

برطانوی وزیر خارجہ ڈیوڈ ملی بینڈ

الیکشن جیتنے پرعالمی برادری اِس خیال کو تقویت دے رہی ہے کہ نئے صدر کے ساتھ قریبی تعاون میں فروغ سے علاقائی سلامتی اور دہشت گردی کے خلاف جاری عالمی جنگ آگے بڑھایا جائے گا۔ وائٹ ہاؤس کے ترجمان Gordon Johndroeکے مطابق امریکی صدر جورج ڈبلیو ببش نئے صدر، وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی اور سیاسی حکومت کے ساتھ مل کر کام کر نے کی مناسبت سے مستقبل میں دیکھ رہے ہیں کہ کس طرح اہم معاملات کو ترجیح دی جاتی ہے۔ اِن معاملات میں انسداد دہشت گردی اور پاکستان کو مستحکم اور محفوظ ملک بنانا شامل ہے۔

Jose Manuel Barroso EU Pressekonferenz in Brüssel

یورپی کمیشن کے سربراہ Jose Manuel Barroso

برطانوی وزیر خارجہ ڈیوڈ ملی بینڈ کی جانب سے بھی ایسا ہی بیان سامنے آیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ صدر زرداری کے ساتھ قریبی رابطے کے ساتھ کام کرتے ہوئے دونوں ملکوں کے تعلقات کو مزید بہتر خطوط پر استوار کرنا ہے۔ ملی بینڈ کا مزید کہنا ہے کہ جمہوری حکومت پاکستانی عوام کی بہتر خدمت کرسکتی ہے اور اِس عمل سے جمہوری اقدار کو بھی استحکام حاصل ہو گا۔ ملی بینڈ کے بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ برطانوی حکومت زرداری کی انسداد دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خاتمے کے سلسلے میں ہر ممکن معاونت کرنے کو تیار ہے۔

Mahmoud Ahmadinedschad trifft Premierminister Yousaf Raza Gilani in Pakistan

ایران کے صدر محمود احمدی نژاد اور پاکستان کے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی

یورپی یونین کی جانب سے کہا گیا ہے کہ آصف علی زرداری کے منصب صدارت سنبھالنے سے اندرون ملک سکیورٹی خدشات میں کمی واقع ہونے کا امکان ہے۔ یورپی یونین کے صدر ملک فرانس نے کہا ہے کہ زرداری کے صدر منتخب ہونے کے بعد علاقائی تناؤ میں کمی ہونی چاہئے۔ یورپی کمیشن کے سربراہ Jose Manuel Barroso کا کہنا ہے کہ زرداری کے صدر بننے کے بعد پاکستان کی اقتصادی صورت حال بہتر ہونے کی توقع کی جا سکتی ہے اور ساتھ میں سکیورٹی چیلنجز کا بھی بھر پور جواب دیا جائے گا۔

ایرانی صدر محمود احمدی نژاد کی جانب سے بھی مبارک بار کا پیغام روانہ سامنے آیا ہے جس میں ہر فیلڈ میں تعاون کا بھی عندیہ دیا گیا ہے۔ افغان صدر نے زرداری کو الیکشن جیتنے کی مبارک دیتے ہوئے کہا کہ اِس سے تعلقات میں تبدیلی ممکن ہے۔ اپنے بیان میں حامد کرزئی نے پیپلز پارٹی کی مقتول لیڈر بے نظیر بھٹو کے ساتھ اپنے تعلُقات کا بھی ذکر کیا۔