1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

آسیہ بی بی کی سزا کی معافی کے خلاف عدالتی حکم نامہ

لاہور ہائی کورٹ نے صدر آصف علی زرداری اور وفاقی حکومت کو توہین رسالت کے الزام میں موت کی سزا پانے والی عیسائی خاتون آسیہ بی بی کی طرف سے دی جانے والی رحم کی درخواست پر کارروائی سے روک دیا ہے۔

default

پیر29 نومبر کو لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس خواجہ شریف نے آسیہ بی بی کی طرف سے صدر آصف علی زرداری کو دی جانے والی رحم کی درخواست پر کارروائی روکنے کے لیے حکم امتناعی جاری کیا ہے۔ ایک مقامی وکیل کی طرف سے عدالتی کارروائی کے دوران صدر سے رحم کی اپیل کرنے کے خلاف دائر کی جانے والی ایک درخواست کی سماعت پر عدالت کی طرف سے یہ عبوری حکم نامہ جاری کیا گیا۔

Familie von Asia Bibi Pakistan

سزائے موت پانے والی عیسائی خاتون آسیہ بی بی کے اہل خانہ

اس موقع پر عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ عدالتوں میں زیر التواء مقدموں کی صورت میں صدر پاکستان کسی سزا یافتہ فریق کو معافی دینے کا اختیار نہیں رکھتے۔ عدالت نے اس حوالے سے وفاقی حکومت اور وفاقی وزارت قانون سے بھی جواب طلب کیا ہے۔ جبکہ آسیہ بی بی کے حوالے سے متنازعہ بیان جاری کرنے پر عدالت نے گورنر پنجاب سے بھی وضاحت طلب کی ہے۔ اب اس کیس کی سماعت چھ دسمبر کو ہو گی۔

درخواست گذار کی طرف سے عدالت میں پیش ہونے والے وکیل اللہ بخش لغاری نے ڈوئچے ویلے کو بتایا کہ بیرونی دباؤ پر بعض حکومتی شخصیات کی طرف سے آسیہ کو معافی دلانے کی کوششیں ملک کے عدالتی نظام پر عدم اعتماد کے مترادف ہیں۔

Salman Taseer

گورنر پنجاب سلمان تاثیر نےآسیہ بی بی سے ملاقات کے دوران اسے جلد رہائی کا یقین دلایا تھا

یاد رہے کہ توہین رسالت کے الزام میں موت کی سزا پانے والی پہلی پاکستانی خاتون آسیہ بی بی کو جون دو ہزار نو میں گرفتار کیا گیا تھا اور اسے رواں ماہ کی آٹھ تاریخ کو موت کی سزا سنائی گئی تھی۔ اس سزا کے خلاف لاہور ہائی میں اپیل بھی کی جا چکی ہے۔ آسیہ کی رہائی کے لیے پوپ بینڈیکٹ سمیت کئی مغربی ملکوں اور انسانی حقوق کے عالمی اداروں نے پاکستان سے اپیل کر رکھی ہے۔ دوسری طرف سنی اتحاد کونسل سمیت ملک کے مذہبی حلقےآسیہ بی بی کو سزا دینے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

رپورٹ: تنویر شہزاد، لاہور

ادارت: افسراعوان

DW.COM

ویب لنکس