1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

آسیہ بی بی کی ذہنی اور جسمانی صحت بہت کمزور، مسیحی فاؤنڈیشن

پاکستان میں گزشتہ برس توہین مذہب کے الزام میں موت کی سزا سنائے جانے کے بعد سے مسیحی خاتون شہری آسیہ بی بی کی ذہنی اور جسمانی صحت بہت کمزور ہو چکی ہے۔

default

آسیہ بی بی کے گھر والے

یہ بات انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے ایک مسیحی گروپ کی طرف سے منگل کو جاری کردہ ایک ایسے بیان میں بتائی گئی، جو اس تنظیم کی طرف سے آسیہ بی بی کے ساتھ جیل میں ایک ملاقات کے بعد جاری کیا گیا۔

ویٹیکن سٹی سے ملنے والی رپورٹوں میں کیتھولک نیوز ایجنسی Fides نے مسیحی فاؤنڈیشن نامی اس تنظیم کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ 46 سالہ آسیہ بی بی جیل میں اپنی قید تنہائی کی وجہ سے واضح طور پر اپنی عمر سے کہیں زیادہ بوڑھی، رنگت میں پیلی اور دیکھنے میں بہت کمزور نظر آتی ہے۔

خبر ایجنسی اے ایف پی نے Fides کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ یہ سزا یافتہ پاکستانی مسیحی خاتون اتنی کمزور ہو چکی ہے کہ وہ اکیلی اپنے پاؤں پر کھڑی بھی نہیں ہو سکتی۔ مسیحی فاؤنڈیشن نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اس کے ایک وفد نے آسیہ بی بی سے جیل میں ملاقات پیر کے روز کی اور اس دوران ملاقات کے ختم ہونے تک آسیہ کسی ایک جگہ پر اپنی نظریں مرکوز کرنے سے قاصر تھی، وہ بہت حیران اور ذہنی طور پر پریشان نظر آ رہی تھی اور بظاہر وہ یہ سمجھنے سے بھی قاصر تھی کہ اس کے ارد گرد کے ماحول میں کیا ہو رہا ہے۔

Blasphemie Gesetz in Pakistan FLASH Galerie

سزا یافتہ پاکستانی مسیحی خاتون اتنی کمزور ہو چکی ہے کہ وہ اکیلی اپنے پاؤں پر کھڑی بھی نہیں ہو سکتی

پانچ بچوں کی ماں آسیہ بی بی کو پاکستان حکام نے صوبہ پنجاب کے شہر شیخوپورہ کی ایک جیل میں رکھا ہوا ہے اور اس ملاقات کے دوران اس خاتون نے مسیحی فاؤنڈیشن کے وفد کو بتایا کہ اس نے اپنے طور پر ان لوگوں کو معاف کر دیا ہے، جنہوں نے اس پر ایک مذہب کے طور پر اسلام کی توہین کا الزام لگایا تھا۔

آسیہ کوگزشتہ برس نومبر میں توہین مذہب کے الزام میں موت کی سزا سنائی گئی تھی اور اس وقت اس کی طرف سے ایک اپیل لاہور ہائی کورٹ میں زیر التوا ہے۔ کہا جاتا ہےکہ اس نے ایک ایسے کنوئیں سے پانی پیا تھا، جو صرف مسلمان شہریوں کے پانی پینے کے لیے مخصوص تھا اور بعد ازاں اس نے مبینہ طور پر پیغمبر اسلام کے بارے میں توہین آمیز کلمات بھی کہے تھے۔

مسیحی فاؤنڈیشن کے وفد کے مطابق آسیہ بی بی نےکہا کہ اسے کسی نے بھی سنجیدگی سے نہیں لیا اور وہ خوف کا شکار بھی تھی۔ اس تنظیم کے مطابق اس کے آسیہ بی بی سے ملاقات کرنے والے وفد نے جب اس پاکستانی خاتون سے معافی کے بارے میں دریافت کیا، تو اس نے کہا کہ وہ ان لوگوں کو معاف کر چکی ہے، جنہوں نے اس پر اسلام اور پیغمبر اسلام کی توہین کے الزام لگائے تھے۔

آسیہ بی بی کو سنائی جانے والی سزائے موت کی پاپائے روم بینیڈکٹ شانز دہم اور بین الاقوامی برادری نے بھی مذمت کی تھی اور ان کا ابھی تک مطالبہ ہے کہ اس مسیحی خاتون کو معاف کر کے رہا کیا جائے۔

رپورٹ: مقبول ملک

ادارت: عاطف بلوچ

DW.COM

ویب لنکس