1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

آسیاں تنظیم کا سربراہ اجلاس

تھائی لینڈ میں آسیان ممالک کی تین روزہ کانفرنس کا آغاز ہوگیا ہے۔ آسیان تنظیم کے رکن ممالک کے علاوہ اس اجلاس میں چین، جاپان اور بھارت بھی شرکت کر رہے ہیں۔ دوسری طری تھائی وزیر اعظم کے مخالف مظاروں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

default

تھائی بینڈ کے شہر پتایا میں آسیاں سمٹ کے موقع پر رکن ملکوں کے جھنڈوں کے ہمراہ پولیس کا جوان

جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کی تنظیم آسیان کے رکن ملکوں سربراہی اجلاس آج سے تھائی لینڈ کے سیاحتی مقام پتّایا میں شروع ہو گیا ہے۔ تھائی لینڈ کے وزیر خزانہ کورن چاٹی کوانِج نے اجلاس کے افتتاحی روز عالمی کساد بازاری کو آسیان ممالک کے لئے ایک اچھا موقع قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ عالمی کساد بازاری نے آسیان ممالک کو ایک موقع فراہم کیا ہے کہ وہ نہ صرف رکن ممالک کے درمیان مالیاتی تعاون کو فروغ دیں بلکہ دنیا میں اس خطے ترقی اور اقتصادی ترقی کا مرکز بنا سکیں۔ آسیان تنظیم کے رکن ممالک کی تعداد دس ہے، جن میں برونائی، کمبوڈیا، انڈونیشیا، لاؤس، ملائشیا، میانمار ، فلپائن ، سنگاپور، تھائی لینڈ اور ویتنام شامل ہیں۔ اس تین روزہ اجلاس میں آسیان رکن ممالک کے علاوہ چین، جاپان، بھارت، جنوبی کوریا، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ بھی شرکت کر رہے ہیں۔

Asean Gipfel in Thailand Protest

وزیر اعظم مخالف مظاہروں کے شرکاء

لندن میں دنیا کی مضبوط معیشتوں یعنی گروپ ٹونٹی کی سربراہی کانفرنس کے تقریبا ایک ہفتہ بعد تھائی لینڈ میں آسیان کی سربراہی کانفرنس میں بھی موجودہ عالمی معاشی بحران کے خلاف اقدامات سے متعلق مشورے کئے جارہے ہیں۔ سربراہی اجلاس میں شریک ملکوں کے مابین اس کانفرنس سے قبل ہی 120 بلین ڈالر مالیت کے ایک امدادی پیکج پراتفاق رائے ہو گیا تھا جس کے ذریعے خطے میں اقتصادی بحران کے اثرات کا مقابلہ کیا جائے گا۔

Asean Gipfel Thailand Nguyen Tan Dung und Witthaya Kaewparadai

آسیاں سمٹ میں شریک ویت نام کے وزیر اعظم

دوسری طرف تھائی لینڈ میں حکومت مخالف مظاہرے بھی جاری ہیں، جن میں آج مزید شدت آگئی۔ ہزاروں کی تعداد میں مظاہرین پولیس کی جانب کھڑی کی گئی رکاوٹیں عبور کرکے اس ہوٹل تک پہنچے میں کامیاب ہوگئے جہاں اس کانفرنس کا انعقاد کیا جارہا ہے۔ تھائی لینڈ کے سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ کانفرنس پروگرام کے مطابق جاری رہے گی اور وہ مظاہرین کو وہاں سے ہٹنے کے لئے کہا جارہا ہے لیکن اگر انہوں نے بات نہیں مانی تو مجبورا انتظامیہ کو کارروائی کرنی پڑی گی۔

سابق وزیر اعظم تھاکسن شینا واترا کے حامی مظاہرین کا کہنا ہے کہ وہ اس وقت تک واپس نہیں جائیں گے جب تک موجودہ وزیر اعظم اپنے عہدے سے استعفی نہیں دیتے۔ تاہم ملک میں جاری مظاہروں کے رد عمل میں تھائی لینڈ کے وزیراعظم ابی سیت ویجا جیوا نے کہا ہے کہ وہ استعفیٰ نہیں دیں گے اور حکومت پرتشدد احتجاج کو روکنے کے لئے بھرپور اقدامات کرے گی۔