1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

آسیان کے خطے میں عالمی لیڈر شپ کی صلاحیت، اوباما

باراک اوباما نے کہا ہے کہ عالمی سیاست میں جنوب مشرقی ایشیا کی اہمیت زیادہ ہوتی جا رہی ہے۔ یہ تبدیلی ایک ایسے وقت پر رونما ہو رہی ہے، جب چین کے ساتھ کئی ملکوں کے سمندری سرحدوں سے متعلق تنازعے مسلسل زیادہ ہوتے جا رہے ہیں۔

default

امریکہ اور آسیان کا یہ اب تک دوسرا سربراہی اجلاس تھا

امریکی صدر نے یہ بات نیویارک میں جنوب مشرقی ایشیائی ملکوں کی تنظیم آسیان کے امریکہ کے ساتھ ہونے والے سربراہی اجلاس میں کہی۔ اس اجلاس میں آسیان کی نمائندگی اس تنظیم کے رکن تمام دس ملکوں کے سربراہان نے کی جبکہ امریکہ کی نمائندگی صدر اوباما نے کی، جنہوں نے اس کانفرنس سے افتتاحی خطاب بھی کیا۔

امریکہ اور آسیان کا یہ اب تک دوسرا سربراہی اجلاس تھا۔ امریکی سرزمین پر ہونے والی اپنی نوعیت کی اس پہلی امریکی آسیان سربراہ کانفرنس میں صدر اوباما نے کہا کہ ایشیائی ملکوں کی اس تنظیم اور اس میں شامل ریاستوں کو امریکی خارجہ پالیسی میں اہم مقام حاصل ہے۔

صدر اوباما نے کہا کہ آسیان کا خطہ دنیا میں حقیقی طور پر رہنمائی کر سکنے والا خطہ ہے۔ اس اجلاس میں فریقین نے اس بات کی اہمیت پر بھی زور دیا کہ ہر قسم کے تنازعات کا پُر امن حل نہایت ضروری ہے۔ کانفرنس میں یہ بات بھی زور دے کر کہی گئی کہ آسیان کے رکن ملکوں کے چین کے ساتھ جو علاقائی تنازعات پائے جاتے ہیں، ان کے باوجود اس بلاک کے رکن ہر ملک کو اپنے سمندری علاقوں میں نقل وحرکت کی مکمل آزادی ہے۔

Barack Obama in Cairo

ہر قسم کے تنازعات کا پُر امن حل نہایت ضروری ہے

امریکہ میں یہ سربراہ اجلاس ایک ایسے وقت پر ہوا، جب چین اور اُس کے روایتی حریف ملک جاپان کے درمیان تازہ تنازعے میں کافی شدت آ گئی ہے۔ اِس تنازعے کا تعلق بحیرہ مشرقی چین کے علاقے میں ملکیتی حقوق کے حوالے سے پائے جانے والے اختلافِ رائے سے ہے۔

اس کانفرنس سے پہلے واشنگٹن میں حکومتی ذرائع نے یہ واضح کر دیا تھا کہ آسیان کے رہنماؤں سے خطاب کرتے ہوئے باراک اوباما چین کو ایک خاص پیغام دینے کی کوشش کریں گے۔ اسی لئے اس اجلاس سے قبل بیجنگ حکومت نے امریکہ کو خبردار بھی کر دیا تھا کہ وہ آسیان کے رکن چند ملکوں کے ساتھ چین کے تنازعے میں مداخلت کرنے کی کوشش نہ کرے۔

واشنگٹن میں مقامی وقت کے مطابق جمعے کی شام ہونے والی اس کانفرنس میں امریکی صدر نے آسیان کے رہنماؤں پر واضح کر دیا کہ جنوب مشرقی ایشیا کا علاقہ عالمی سطح پر اور بھی اہم کردار کا حامل ہو سکتا ہے جبکہ امریکہ ایشیا میں اپنے لئے ایک قائدانہ کردار کا بھی خواہشمند ہے۔

امریکہ اور آسیان کے بڑھتے ہوئے تعلقات کا ایک ثبوت یہ ہے کہ فریقین نہ صرف سیاسی بلکہ تجارتی تعلقات میں بھی مزید قربت کے خواہشمند ہیں۔ امریکہ اور آسیان ملکوں کے مابین سال رواں کے پہلے چھ ماہ کے دوران دو طرفہ تجارت کے حجم میں ایک سال پہلے کے مقابلے میں بیس فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ اس سال جنوری سے جون تک امریکہ اور آسیان کی باہمی تجارت کا حجم 84 بلین ڈالر ہو چکا تھا۔ آسیان میں برونائی، کمبوڈیا، انڈونیشیا، لاؤس، ملائشیا، میانمار، فلپئائن، سنگاپور، تھائی لینڈ اور ویت نام شامل ہیں۔

رپورٹ: عصمت جبیں

ادارت: امجد علی

DW.COM

ویب لنکس