1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

آسیان کا زیادہ خودانحصاری کا فیصلہ

آسیان کے تین روزہ سربراہی اجلاس میں جو بات واضح طور پر محسوس کی گئی، وہ یہ تھی کہ جنوب مشرقی ایشیائی ریاستوں کی اس تنظیم میں شامل سبھی ملک اقتصادی حوالے سے خود پر زیادہ سے زیادہ انحصار کرنا چاہتے ہیں۔

default

آسیان سربراہ اجلاس کے افتتاحی تقریب کا ایک منظر

آسیان ملکوں کے 15ویں سالانہ اجلاس کا میزانیہ یہ ہے کہ جنوب مشرقی ایشیا کے یہ ملک اقتصادی طور پر خود پر زیادہ انحصار کے خواہش مند ہیں۔ تھائی لینڈ کے تفریحی مقام ہواین میں ہونے والے اس تین روزہ سربراہی اجلاس کے اختتام پر تھائی وزیراعظم آبھیسیت ویجاجیوا نے اجلاس کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا :" ترقی کا پرانا ماڈل جس میں ایشیا مغرب پر انحصار کر تا ہے، اب ہمیں مزید ترقی سے ہمکنار نہیں کر سکتا۔ ہمیں متبادل حکمت عملی سوچنا ہوگی۔"

سولہ رکنی آسیان تنظیم کے اس اجلاس میں مجموعی طور پر کئی نئی تجاویز سامنے آئیں۔ ان میں سے جاپانی اور آسڑیلوی وزرائے اعظم کی تقریباﹰ ایک ہی طرح کی اس تجویز کو بہت سراہا گیا کہ آسیان کو یورپی یونین کی طرز پر ایک مضبوط اقتصادی بلاک بنایا جائے۔ یہ تین روزہ سربراہی اجلاس 23 اکتوبر کو شروع ہوا تھا۔

اس اجلاس میں چینی اور بھارتی رہنماؤں کے مابین ہونے والی گفتگو کو بھی بہت اہمیت دی جا رہی ہے۔ خاص طور پر اس تناظر میں کہ بیجنگ اور نئی دہلی کے مابین سرحدی تنازعے بھی پائے جاتے ہیں، اور چین تبتی باشندوں کے روحانی پیشوا دلائی لاما کی بھارت میں مصروفیات کو بھی تنقیدی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ اسی پس منظر میں کئی تجزیہ نگار بھارتی اور چینی رہنماؤں کی بات چیت کو ان دونوں طاقتوں کے نظر آنے والی سیاسی پیش رفت قرار دے رہے ہیں۔ ایسے میں نئی دہلی اور بیجنگ کا یہ مشترکہ مئوقف قدرے حوصلہ افزا ہے کہ دونوں ہی آپس کے معاشی اور سماجی تعلقات کو سرحدی تنازعات سے دور رکھنا چاہتے ہیں۔

ASEAN Gipfel in Thailand beginnt Flash-Galerie

اجلاس کے موقع پر آسیان ملکوں کے سربراہان ایک گروپ فوٹو میں

آسیان کے اس سربراہی اجلاس میں شریک کئی سفارت کاروں نے تین روزہ کارروائی اور اس کے نتائج کو ایک طرف اگر سراہا ہے تو ساتھ ہی چند خدشات کا اظہار بھی کیا ہے۔ مثلاﹰ یہ کہ مستقبل میں ایشیائی ممالک کی ترقی اور معاشی انقلاب کے دعوے اپنی جگہ ٹھیک تو ہیں، مگر ساتھ ہی اس بات کا خیال بھی رکھا جائے کہ اس تنظیم میں شامل چھوٹے ممالک ہر طرح کے استحصال سے بچے رہیں۔

واضح رہے کہ اجلاس میں مستقبل کا جو پلان جاپان نے ترتیب دیا ہے اس میں امریکہ کی شراکت کا کوئی ذکر نہیں ہے جبکہ آسٹریلوی حکمت عملی اپنے اندر واضح امریکی مداخلت کے آثار لئے ہوئے ہے۔

اسی تناظر میں ویت نام کے ایک سفارت کار نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر ایک فرانسیی خبررساں ایجنسی سے بات کرتے ہوئے کہا : " پانی شائد سطح پر تو پرسکون دکھائی دیتا ہے لیکن نیچے تہ میں کا فی بے چینی پائی جاتی ہے"

ان کا مزید کہناتھا :" اس تنظیم کی مستقبل کی کارکردگی کا انحصار بہت حد تک اس بات پر ہے کہ چین اور امریکہ اس کی گروپنگ میں کیا کر دار اختیار کرتے ہیں"

ایک آسٹریلوی سفارت کار کا اپنی حکمت عملی کے دفاع میں کہنا تھا: " خواہ ہمیں اچھا لگے یا برا، ہم امریکی کردار کو نظرانداز نہیں کر سکتے۔ کیونکہ علاقائی طور پر بھی کچھ ممالک ایک دوسرے سے خائف ہیں اس لیے وہ بھی چاہیں گے کہ امریکہ اپنا کردار ادا کرے۔‘‘

یاد رہے کہ افغانستان اور عراق میں اپنی مصروفیت کے باوجود امریکہ نے ابھی حالیہ دنوں میں ہی جنوب مشرقی ایشیا کی طرف رخ کیا ہے۔ اسی حوالے سے اسی سال کے شروع میں امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن کا کہنا تھا:" امریکہ جنوب مشرقی ایشیا کے ساتھ نئے تعلقات کا خواہاں ہے"۔ کلنٹن کا اس سال کے شروع میں دیا گیا یہ بیان امریکہ کی ممکنہ ترجیحات کی نشاندہی کرتا ہے۔

اسی کردار کو مزید پختگی اس بات سے بھی ملتی ہے کہ اگلے ماہ امریکی صدر باراک اوباما آسیان ممالک کے رہنماؤں کے ساتھ ایک سربراہی اجلاس میں شرکت کریں گے اور اس کے ساتھ ساتھ وہ سالانہ ایشیا پیسیفک اکنامک فورم میں بھی شرکت کریں گے، جو سنگاپور میں منعقد ہوگا۔

بحیثیت مجموعی اس اجلاس میں ایشیائی لیڈر اس بات پر متفق نظر آئے کہ انہیں اب نیا لائحہ عمل ترتیب دینا ہوگا جو ان کی خاص زمینی صورتحال میں معاون ثابت ہو۔

واضح رہے کہ رواں برس اپریل میں نامساعد حالات کے باعث تھائی حکومت کو آسیان سمٹ منسوخ کرنا پڑگئی تھی، جس کے بعد دارالحکومت بنکاک اور اس سے ملحقہ علاقوں میں ہنگامی حالت کا نفاذ کیا گیا تھا۔ آسیان اجلاس کی سربراہی سالانہ بنیادوں پر تفویض ہوتی ہے۔ سال 2010 کے لئے سربراہ ملک کے طور پر ویت نام کوچنا گیا ہے۔

رپورٹ: عبدالرؤف انجم

ادارت : عدنان اسحاق

DW.COM