1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

آسیان ممالک نے ریاستی تحفظ کی پالیسیوں کو مسترد کردیا

جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کے رہنماؤں نے اجلاس کے آخری دن تمام شرکا نے اقتصادی بحران کے حوالے سے ریاستی تحفظ کی پالیسیوں کو مسترد کردیا اور عالمی اقتصادی نظام میں اصلاحات کا مطالبہ کیا ہے۔

default

چودہویں سمٹ کے موقع پر مہمان ملک تھائی لینڈ کے وزیر اعظم آسیان ممالک کے سربراہان کو خوش آمدید کہتے ہوئے۔

آسیان ممالک نے اتوار کے دن عالمی بحران سے نمٹنے کے لئے مالیاتی اداروں میں فوری اور ہنگامی بنیادوں پر اصلاحات لانے پر زور دیا۔ اپنے اپنے ملکی مالیاتی اداروں میں ایسی اصلاحات پر اس لئے بھی زور دیا جا رہا ہے کہ اس تنظیم میں شامل ممالک سن دو ہزار پندہ تک یورپی یونین کی طرز پر ایک کمیونٹی بنانے کا سوچ رہے ہیں۔

دس ملکوں پر مشتمل آسیان تنظیم کے اجلاس کے آخری دن ایک متفقہ اعلامیہ جاری کیا گیا جس میں بین الاقوامی مالیاتی نظام میں ہنگامی اور بہادرانہ اقدامات اٹھانے پر زور دیا گیا تاکہ موجودہ بحرانی صورتحال سے نمٹا جا سکے۔

اجلاس میں دو ہزار پندرہ تک ایک آسیان اقتصادی کمیونٹی کے قیام کےفیصلہ کے علاوہ اجلاس میں شریک رہنماؤں نے بحران کی صورت میں اس تنظیم میں شامل ممالک کو رعایتی تیل فراہم کرنے سے متعلق ایک معاہدے پر بھی دستخط کیے ہیں۔

اس اجلا س میں تمام شرکا نے مستقبل میں اپنی اپنی اقتصادی پالیسیوں پر ایک دوسرے کے ساتھ مکمل طور پر رابطہ کاری پر بھی اتفاق رائےظاہر کیا۔

Asean Gipfel 2009 Asien

آسیان ممالک کے سربراہان مملکت

جنوب مشرقی ایشیائی ملکوں کی تنظیم آسیان کی سربراہ کانفرنس کی اہم ترین پیش رفت میں نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا کے ساتھ آزاد تجارت کا معاہدہ طے ہونا ہے۔ اس معاہدے کو عالمی مالیاتی بحران پر قابو پانے کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا سکتا ہے۔ قبل ازیں یہ تنظیم چین، جاپان اور جنوبی کوریا کے ساتھ بھی اسی طرح کا معاہدہ طے کر چکی ہے۔

واضح رہے کہ زیادہ تر ایشیائی ممالک کا دارومدار برآمدات پر ہے اور عالمی مالیاتی بحران کی وجہ سے جنوری کے مہینے میں سنگاپور جیسے ملک کی معیشت پینتیس فیصد تک گرگئی تھی۔

اس اجلاس میں میانمار کے شرکا پر زور ڈالا گیا کہ وہ اپنے ملک میں جمہوریت کے لئے اقدامات اٹھائیں۔ واضح رہے کہ آسیان کو اس لئے تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے کہ یہ ابھی تک میانمار حکومت پر اپنا اثرو رسوخ استعمال کرتے ہوئے وہاں انسانی حقوق کی ابتر صورتحال میں بہتری لانے میں ناکام رہی ہے۔ میانمار میں سن انیس سو باسٹھ سے فوجی حکومت قائم ہے ۔ تاہم میانمار نے کہا ہے کہ وہ جلد ہی ملک میں جمہوریت حکومت قائم کر دے گا۔

اس تنظیم میں برونائی، کمبوڈیہ ، انڈونیشیا، لاوس، ملیشیا، میانمار، فلپائن، سنگاپور، تھائی لینڈ اور ویت نام شامل ہے۔