1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

آسیان ملکوں میں ویزے کی سہولت کا ممکنہ پلان

یورپ کی طرز پر جنوب مشرقی ایشیائی ملکوں کی تنظیم آسیان کا بھی خیال ہے کہ ایک ملک کے ویزے سے ہی بقیہ ملکوں تک سیاحوں کو گھومنے پھرنے کی اجازت سیاحت کے فروغ کا سبب بن سکتی ہے۔

default

اب اس کا امکان پیدا ہو گیا ہے کہ ایک سیاح کسی ایک ملک کے ویزے کے ساتھ ہی صبح کے وقت انڈونیشیا کے جزیرے بالی پر سر فنگ کا شوق پورا کرے اور شاپنگ کے لیے وہ سنگا پور کے بڑے بڑے خرید و فروخت کے مراکز میں گھومے اور رات کے وقت بینکاک میں تھائی مصالحوں سے تیار کھانوں سے اپنی بھوک ختم کرے۔ اس کے بعد اگلے دن وہ کمبوڈیا یا ویت نام جا کر دریائے میکانگ میں کشتی رانی کا لطف بھی اٹھائے۔ اگلے کچھ عرصے کے بعد اب ایک ویزے پر یہ سب ممکن ہونے کی امید پیدا ہوتی جا رہی ہے۔

جنوب مشرقی ایشیائی ملکوں کی تنظیم آسیان ایک ایسی تجویز کی باریکیوں کو ختم کرنے میں مصروف ہے کہ تنظیم میں شریک ملکوں کے اندر یورپ جیسا ایک ویزہ سسٹم اپنایا جائے تاکہ اس باعث مشرق بعید کی ان ملکوں میں سیاحت کو مزید فروغ حاصل ہو سکے۔ جکارتہ میں قائم آسیان کے صدر دفتر میں ماہرین اس تجویز کو عملی شکل دینے میں مصروف ہیں۔ یہ آسیان تنظیم کے سیاحت کو فروغ دینے کے پانچ سالہ سٹریٹیجیک پلان کا حصہ ہے۔

ASEAN Gipfel 2010 Flash-Galerie

آسیان ملکوں کے رہنماؤں کی ایک گروپ فوٹو

سیاحت کے شعبے سے وابستہ ماہرین کا خیال ہے کہ مشرق بعید کے وہ ملک جو آسیان تنظیم کا حصہ ہیں وہ یورپی سیاحوں کے لیے ایک خاص توجہ رکھتے ہیں۔ ان ملکوں میں تھائی لینڈ، سنگا پور، ملائیشیا، لاؤس، برونائی، میانمار، کمبوڈیا، انڈو نیشیا، ویت نام اور فلپائن شامل ہیں۔ 2009 ء کے اعداد و شمار کے مطابق تقریباً اُس سال 65 ملین سیاحوں نے ان ملکوں کا سفر کیا تھا۔

دنیا کے مختلف ملکوں میں یہ احساس پایا جاتا ہے کہ مشرق بعید کے ملکوں کے لیے ویزے کا حصول اتنا آسان نہیں ہے اور شاید سیاحتی صنعت کا فروغ دیکھتے ہوئے آسیان تنظیم اس حوالے سے غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر کے حجم کو وسیع کرنے کے تناظر میں ویزے کی مشکلات کو آسان کرنے کا پلان کیے ہوئے ہے۔ حتمی اعلان میں ویزے کی مدت کا تعین بھی کیا جائے گا۔

آسیان ملکوں کے اندر سیاحت کی صنعت سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ قوانین و ضوابط کا آسان ہونا بہت ضروری ہے اور اسی باعث سیاحوں کا مختلف ملکوں میں سفر کرنا آسان ہو سکے گا۔ دوسری جانب کچھ افراد کا یہ بھی کہنا ہے کہ آسیان تنظیم کے ممالک یورپی ملکوں سے بڑے ہیں اور ان میں یورپ جیسے کم دورانیہ کے ہوائی سفر کے ساتھ ساتھ زمینی سفر بھی اتنا پرآسائش اور آرام دہ نہیں کہ سیاح اس سہولت سے بھرپور فائدہ اٹھا سکیں۔ ان افراد کا یہ بھی کہنا ہے کہ مشرق بعید کے کچھ ملکوں میں رہائش اور ٹوائلٹس کی مناسب سہولت کی دستیابی بھی ضروری ہے۔

رپورٹ: عابد حسین

ادارت: عاطف بلوچ

DW.COM

ویب لنکس