1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

آسڑیلیا میں سیلاب کی تباہ کاریاں، بحالی کے لئے فوج کا سہارا

آسٹریلوی تاریخ کے شدید ترین سیلاب کے باعث ملک کا شمال مشرقی حصہ تاحال متاثر ہے۔ سیلابی پانی سے علاقے کی اہم سڑکوں اور بندرگاہوں کو نقصان پہنچا ہے جبکہ اکثر علاقوں کا باقی ملک سے رابطہ ابھی تک منقطع ہے۔

default

سیلاب کے باعث ریاست کوئینزلینڈ کی اہم ترین اور مرکزی شاہراہ کیپری کون زیر آب آ گئی ہے جبکہ پانی میں گِھرے قصبے روک ھیمٹن میں پانی اب گھروں میں داخل ہو گیا ہے۔ 77 ہزار کی آبادی والے اس علاقے تک پہنچنے کا اب واحد زمینی ذریعہ امدادی کشتیاں ہیں۔ علاقے میں گھرے لوگوں تک فوج امداد پہنچا رہی ہے جبکہ لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کا سلسلہ بھی شروع کر دیا گیا ہے۔

ریاست کوئینزلینڈ کے ایمرجنسی کوآرڈینیٹر اور پولیس کے ڈپٹی کمشنر ایان سٹورٹ کے بقول روک ھیمٹن میں پانی کی سطح 30 فٹ تک بلند ہوگئی ہے۔

پولیس نے ایسے لوگوں کو حکم جاری کیا ہے کہ وہ فی الفور محفوظ مقامات پر منتقل ہوں، جو اپنا گھر بار چھوڑنے پر راضی نہیں ہیں۔

دوسری جانب سیلاب کی وجہ سے ریاست کوئینز لینڈ کی کوئلے کی برآمد کے حوالے سے سب سے بڑی بندرگاہ تاحال بند ہے۔ ایک اندازے کے مطابق حالیہ سیلاب سے ملکی معیشت کو 980 ملین ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا ہے جبکہ اس سے تقریباﹰ دو لاکھ افراد متاثر ہوئے ہیں۔

NO FLASH Überschwemmungen Australien

سیلابی پانی میں گھِرا کینگرو

سب سے زیادہ نقصان برآمدات کے اہم ترین ذریعے یعنی کوئلے کی کانوں اور بندرگاہوں کے بند ہو جانے کے باعث ہوا۔ ریاست کو سب سے زیادہ آمدنی کوئلے کی برآمد سے ہوتی ہے، جو کہ سالانہ 55 بلین ڈالر کے قریب ہے۔

ادھر آسٹریلیا کی وزیر اعظم جولیا گیلارڈ نے متاثرین سیلاب کے لیے مالی امداد کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے یہ بہت بڑی قدرتی آفت ہے اور اس کے اثرات سے نکلنے کے لیے ایک عرصہ درکار ہو گا۔ ان کا مزید کہنا تھا، ’’سیلاب کے باعث ریاست کوئینز لینڈ کو بہت بڑی تباہی کا سامنا ہے، جس کا مقابلہ کرنے کے لیے قومی سطح پر متحدہ کوششوں کی ضرورت ہے۔‘‘

دو ہفتے قبل آسٹریلوی تاریخ کی شدید ترین بارشوں کے باعث ریاست کوئینزلینڈ میں موجود چھ بڑے دریاؤں میں سیلاب آنے سے ملک میں تباہ کاریوں کا سلسلہ شروع ہوا تھا جو تاحال جاری ہے۔ اس سیلاب کی وجہ سے اب تک ایک شہری ہلاک ہوا ہے۔

رپورٹ: افسر اعوان

ادارت: مقبول ملک

DW.COM

ویب لنکس