1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

آسٹرین وزیر داخلہ مہاجرین کو ورک پرمٹ دینے کے خلاف

آسٹریا کے قدامت پسند وزیر داخلہ نے یورپی کمیشن کے اس مجوزہ منصوبے کو مسترد کر دیا ہے، جس میں رکن ریاستوں میں پناہ حاصل کرنے والے مہاجرین کو ملازمتیں کرنے کا حق دینے کی بات کی گئی ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز نے آسٹریا کے وزیر داخلہ وولفگانگ سوبوتکا کے حوالے سے بتایا ہے کہ وہ سیاسی پناہ کے متلاشی افراد کو ورک پرمٹ جاری کرنے کے خلاف ہیں۔

یورپی کمیشن نے بدھ تیرہ جولائی کے روز پناہ کے متلاشی افراد کے لیے ایسے قوانین تجویز کیے تھے، جن کے تحت یورپی یونین کی تمام رکن ریاستیں ان پر عمل کرنے کی پابند ہوں گی۔ اس اقدام کا مقصد پناہ کے متلاشی افراد کے لیے یورپی یونین کی سطح پر رہنما اصول وضع کرنا ہے۔

ایک آسٹرین اخبار کے ساتھ گفتگو میں وولفگانگ سوبوتکا نے کہا، ’’پناہ کے متلاشی افراد کو کام کرنے کی اجازت دینا، میرے لیے ناقابل فہم ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا، ’’یوں بحران زدہ ممالک کے لوگوں کو یہ پیغام ملے گا کہ وہ سب آسٹریا پہنچ جائیں۔ ہماری روزگار کی منڈی اسے برداشت کرنے کے قابل نہیں ہو گی۔‘‘

آسٹریا نے مجموعی طور پر نوّے ہزار مہاجرین اور پناہ گزینوں کو قبول کیا ہے۔ تاہم مہاجرین کے بحران میں شدت کے باعث ویانا حکومت نے نہ صرف مزید مہاجرین کو تسلیم کرنے کی ایک حد متعین کر دی ہے بلکہ ساتھ ہی ملکی سرحدوں کی نگرانی بھی بڑھا دی ہے۔ فی الحال آسٹریا میں پناہ کے متلاشی افراد کو کمیونٹی کی سطح پر ملازمتیں کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔

یورپی کمیشن کے تجویز کردہ منصوبے میں جہاں اس بحران سے نمٹنے کے لیے متعدد تجاویز دی گئی ہیں، وہیں پر یہ بھی کہا گیا ہے کہ رکن ریاستوں میں پناہ کی درخواستیں جمع کرانے کے چھ ماہ بعد تمام مہاجرین اور تارکین وطن کو ورک پرمٹ دے دیا جائے گا۔

مہاجرین کے سنگین بحران کی وجہ سے دیگر یورپی ممالک کی طرح آسٹریا میں بھی مہاجرین مخالف جذبات ابھر کر سامنے آئے ہیں۔ آسٹریا کی موجودہ حکومت بھی مہاجرین کے اس بحران کے حل کے طریقہ کار پر منقسم دکھائی دیتی ہے۔

ویانا کی مخلوط حکومت میں سوشل ڈیموکریٹس اور پیپلز پارٹی شامل ہیں۔ سوشل ڈیموکریٹک وفاقی چانسلر کرسٹیان کَیرن یورپی کمیشن کے اس منصوبے کی حمایت کرتے ہیں لیکن دائیں بازو کی طرف جھکاؤ رکھنے والی آسٹرین پیپلز پارٹی اس کے خلاف ہے۔

Idomeni Grenze Polizei Flüchtlinge

ویانا حکومت بلقان کی ریاستوں کے ساتھ مل کر سرحدوں کی نگرانی کے لیے بھی بھرپور تعاون کر ر ہی ہے

ملکی وزیر داخلہ سوبوتکا کا تعلق پیپلز پارٹی سے ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ یورپی یونین کی رکن تمام ریاستوں کو چاہیے کہ وہ پناہ کے متلاشی افراد کو ورک پرمٹ جاری کرنے کی مخالفت کریں۔ وولفگانگ سوبوتکا کے مطابق اگر یہ قدم اٹھایا گیا تو اور زیادہ مہاجرین یورپی ممالک کا رخ کرنا شروع کر دیں گے۔

ویانا حکومت نے رواں سال کے دوران سینتیس ہزار پانچ سو پناہ گزینوں کو قبول کرنے کی حد مقرر کی ہے۔ ساتھ ہی وہ بلقان کی ریاستوں کے ساتھ مل کر سرحدوں کی نگرانی کے لیے بھی بھرپور تعاون کر ر ہی ہے۔