1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

آسٹریلیا کو اپنی ہی سرزمین پر ٹیسٹ سیریز میں شکست

آسٹریلوی ٹیم نے تقریباً پندرہ سال بعد اپنے ملک میں ٹیسٹ کرکٹ سیریز ہاری ہے۔

default

آسٹریلوی کرکٹ ٹیم کے کپتان رکی پونٹنگ شاندار کارکردگی کے باوجود اپنی ٹیم کو سیریز کی شکست سے نہیں بچا سکے۔

میلبورن، آسٹریلیا: جنوبی افریقہ بمقابلہ آسٹریلیا

جنوبی افریقہ کی کرکٹ ٹیم نے آسٹریلیا کو میلبورن میدان میں شکست سے دوچار کر کے آسٹریلوی ٹیم کی خامیوں اور کمزوریوں کو انتہائی واضح کردیا ہے اور بظاہر ثابت کردیا ہے کہ ماضی کی ناقابلِ شکست ٹیم اب روبہ زوال ہے۔ آسٹریلوی ٹیم کی باؤلنگ کی کمزوری تو بھارتی دورے پر ہی آشکار ہو گئی تھی جب ٹیم کے پاس کوئی مناسب سپنر بھی نہیں تھا۔ اب ماہرین کا خیال ہے کہ اینڈریو سائمنڈ اور میتھیو ہیڈن شاید اپنا آخری ٹیسٹ میچ کھیل چکے ہیں۔ تیسرے ٹیسٹ میچ کے لئے جو کہ سڈنی میں تنی جنوری سے شروع ہو گا امکاناً آسٹریلوی کرکٹ بورڈ اپنی ٹیم میں کافی تبدیلیاں کرے اور اگر ایسا نہیں کیا جاتا تو تجربہ کار مگر آؤٹ آف فارم تیس سینچریوں کے مالک میتھیو ہیڈن کو کسی معجزے کا انتظار ہو گا۔

Cricket

آسٹریلوی باؤلر شین وارن، بلے بازی کے جوہر دکھاتے ہوئے، اُن کے پیچھے جنوبی افریقہ کے وکٹ کیپر باؤچر ہیں۔

اِس سیریز کی ناکامی کے بعد اب نامی گرامی سابق آسٹریلوی کھلاڑیوں نے اگلی برس کی ایشز سیریز میں انگلینڈ کی ٹیم کو بہتر اور فیورٹ ٹیم قرار دے دیا ہے۔ ان سب کا خیال ہے کہ اکیلا پونٹنگ ساری ٹیم کی جگہ کہاں تک کھیلتا رہے گا۔ آسٹریلوی باؤلنگ کی کمزوریوں کا بھرپور فائدہ تو جنوبی افریقہ نے پرتھ ٹیسٹ میں ہی اٹھا لیا تھا جب اُس نے تاریخی کامیابی سے فتح حاصل کی تھی۔ اب پندرہ سال بعذ آسٹریلوی ٹیم کو اپنے گھر میں سیریز ہارنا پڑی ہے۔ سن اُنیس سو بانوے ترانوے میں ویسٹ انڈیز کی کرکٹ ٹیم نے آسٹریلوی ٹیم کو شکست سے دوچار کیا تھا جس میں تیز باؤلر کرٹلی ایمبروز کی شاندار باؤلنگ نمایاں تھی اور اِس سیریز میں ڈیل سٹین نمایاں دکھائی دے رہے ہیں۔ اِن پندرہ سالوں میں آسٹریلوی ٹیم کو شکست ناآشنا ہونے کا دعویٰ رہا مگر گلین میگرا، شین وارن ، میک گِل، کلسپی، گِلکریسٹ اور وا برادران کی رخصتی کے بعد بلے بازی میں تو کسی حد تک آسٹریلوی ٹیم گزارا کرتی رہی ہے لیکن باؤلنگ میں اُس کو سخت مسائل کا سامنا ہے۔ بریٹ لی بھی گلین میگرا اور گلسپی کے سائے میں وکٹیں نکالنے میں کامیاب ہوتا تھا مگر اب اُس کی ہمت بھی جواب دینے لگی ہے۔ یہ میچ ڈیومنی اور ڈیل سٹین کی شاندار پرفارمنس کے باعث ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ ڈیل سٹین نے چھہتر رنز کے علاوہ میچ میں دس وکٹیں بھی حاصل کی

میرپور، بنگلہ دیش: سری لنکا بمقابلہ بنگلہ دیش

الیکشن کے دِن کی چھٹی کے بعد سری لنکا اور بنگلہ دیش کی کرکٹ ٹیموں کے درمیان پہلے ٹیسٹ میچ کا آج چوتھا دِن ہے۔ میزبان بنگلہ دیش کی کرکٹ ٹیم پہلے ہی سری لنکا کے خلاف پہلے ٹیسٹ میچ کے تیسرے دِن سے ہی انتہائی دباؤ میں آ چکی ہے۔ پہلے سری لنکا کی ٹیم نے میزبان ٹیم کو اپنی پہلی اننگز کے سکور سے ایک پندرہ رنز پہلے آؤٹ کردیا جس میں مرلی دھرن کی چھ وکٹیں شامل ہیں اور پھر دوسری اننگز میں کپتان جے وردھن کی شاندارچوبیسویں سینچری کی بدولت سری لنکا انتہائی مضبوط پوزیشن پر ہے جب کہ ابھی میچ کے دو دِن باقی ہیں۔ اِس طرح اب تک سری لنکا کو بنگلہ دیش کی ٹیم کے خلاف چار سو چھ رنز کی برتری حاصل ہو چکی ہے اور ابھی اُس کی دوسری اننگز کی چھ وکٹیں بچی ہوئی ہیں۔ کپتان جے وردھن ایک سو انتیس کی شاندار اننگ کے ساتھ ناٹ آؤٹ ہیں۔ اُن کے ساتھ سمارا ویرا اور سنگا کارا نے اچھا ساتھ دیا۔ دونوں کھلاڑیوں نے نصف سیچریاں مکمل کی۔ سمارا ویرا نے میچ میں اپنی دوسری نصف سینچری مکمل کی ہے۔ سمارا ویرا پہلی اننگز میں وہ نوے کے انفرادی سکور پر آؤٹ ہوئے تھے۔ سری لنکا کے افتتاحی بلے بلز صرف اٹھارہ کے سکور پر پیویلن لوٹ گئے تھے مگر بعد میں سنگا کارا اور جے وردھن نے ایک اڑتیس رنز کی شراکت سے اننگز کا پانسہ پلٹ دیا۔ دوسری طرف اگر بنگلہ دیش کی ٹیم دوسری اننگز میں بھی پہلی اننگز کی طرح جلد آؤٹ ہو گئی تو وہ یہ میچ ایک بڑے فرق سے ہار سکتی ہے۔ دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز کا دوسرا ٹیسٹ میچ تین جنوری سے چٹا گانگ میں کھیلا جائے گا۔