1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

آسٹریلیا کا پاکستان کو یورینیم کی فراہمی سے انکار

آسٹریلیا کے وزیر دفاع اسٹیفن اسمتھ نے واضح کیا ہےکہ ان کا ملک بھارت کے برعکس پاکستان کو یورینیم فروخت نہیں کرے گا کیونکہ وہ ماضی میں اپنے ایٹمی رازوں کے تحفظ میں ناکام رہا ہے۔

default

آسٹریلوی وزیر دفاع ان دنوں بھارت کے دورے پر ہیں اور انھوں نے یہ بات نئی دہلی میں بھارت کے اعلٰی حکام سے ملاقات کے بعد کہی۔ اس سے قبل گزشتہ ہفتے آسٹریلیا نے بھارت کو یورینیم کی فراہمی پر عائد پابندی اٹھا لی تھی۔ پاکستان کی طرح بھارت نے ابھی تک عدم ایٹمی پھیلاؤ کے معاہدے (NPT) پر دستخط نہیں کیے ہیں لیکن اس کے باوجود بھارت موجودہ حالات میں وہ واحد ملک ہے جو یورینیم کی فراہمی سے مستفید ہو رہا ہے۔

Abdul Qadeer Khan

ڈاکٹر عبدالقدیر نے ایٹمی ٹیکنالوجی دوسرے ملکوں کو منتقل کرنے کا اعتراف کیا تھا

اسٹیفن اسمتھ نے آسٹریلوی نشریاتی ادارے (ABC) کو بتایا کہ جوہری پھیلاؤ کے حوالے سے ماضی میں پاکستان کا ریکارڈ اتنا صاف نہیں رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کے برعکس بھارت نے اگرچہ ایٹمی عدم پھیلاؤ کے معاہدے پر دستخط نہیں کیے ہیں مگر اس کے باوجود ایٹمی ٹیکنالوجی کے معاملات کے مخفی رکھنے میں بھارت کا کردار مثالی رہا ہے۔ ان کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ بھارت دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہے اور اب تک ایسا ایک بھی واقعہ سامنے نہیں آیا  ہے جس سے یہ ثابت ہو سکے کہ بھارت ایٹمی پھیلاؤ میں ملوث رہا ہے۔

پاکستان کے جوہری پروگرام کے بانی تصور کیے جانے والے ڈاکٹر عبدالقدیر نے 2004  میں ایٹمی ٹیکنالوجی دوسرے ملکوں کو منتقل کرنے کا اعتراف کیا تھا۔ آسٹریلوی وزیر دفاع کے مطابق موجودہ حالات میں پوری دنیا کی نظریں ایشیا  پر مرکوز ہیں اور اس خطے میں بھارت نمایاں حیثیت کا حامل ملک ہے۔

بھارت نے اس ضمن میں  آسٹریلوی حکومت کو یقین دلایا ہے کہ حاصل شدہ یورینیم کو سول مقاصد کے لیے صرف بجلی کی پیداوار میں استعمال کیا جائے گا اور اس کا بھارت کے ایٹمی ہتھیاروں کے پروگرام سے کوئی تعلق نہیں ہو گا۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق آسٹریلیا بھارت کو اپنی برآمدات کے حوالے سے بھی چوتھا بڑا ملک قرار دیتا ہے اور مستقبل میں بھی تجارتی اور اقتصادی شعبے میں اس شراکت داری کو مضبوط دفاعی تعلقات میں تبدیل کرنے کا خواہاں ہے۔

رپورٹ:  شاہد افراز خان

ادارت: حماد کیانی

DW.COM